دعوت الامیر — Page 196
(194) دعوة الامير اس کا کوئی حصہ کم کر کے۔اللہ تعالیٰ خود اس کا محافظ ہے اور اس نے اس کی حفاظت کے ایسے سامان کر دیئے ہیں کچھ روحانی اور کچھ جسمانی کہ انسانی دست برداس پر اثر کر ہی نہیں سکتی۔پس اس میں کوئی نسخ ماننا بھی غلط ہے اور اس میں کوئی تغیر تسلیم کرنابھی خواہ وہ کیسا ہی ادنی ہے اتہام ہے وہ محفوظ ہے اور محفوظ رہے گا۔یہ کہنا کہ اس کا کوئی حصہ دنیا سے اٹھایا گیا ہے اللہ تعالیٰ پر الزام لگانا ہے اور اس کے یہ معنی ہیں کہ وہ کامل کتاب جو اس نے دنیا کی ہدایت کے لئے بھیجی تھی وہ ایک دن بھی اس کام کو نہ کر سکی جس کے لئے وہ نازل کی گئی تھی اور اس کے اندر تغیر تسلیم کرنے کے یہ معنے ہیں کہ وہ ہمیشہ کے لئے بے اعتبار ہو گئی لیکن اگر ایسا ہوتا تو یہ بھی ضروری تھا کہ کوئی نبی اور کوئی نئی شریعت دنیا کی ہدایت کے لئے بھیجی جاتی تاکہ دنیا بلا شریعت کے نہ رہ جاتی۔اسی طرح آپ نے ثابت کیا کہ قرآن کریم بلکہ ہر ایک اللہ کا کلام شیطانی تصرف سے پاک ہے یہ ہرگز ممکن نہیں کہ شیطان اللہ تعالیٰ کے کلام میں کچھ دخل دے سکے ، خواہ نبی کی زبان پر تصرف کر کے خواہ نبی کی آواز بنا کر اپنی زبان کے ذریعہ سے اور آپ نے اپنے تجربے سے بتایا کہ جب مجھ پر جو ایک غلام ہوں نازل ہونے والا کلام ہر ایک شک وشبہ سے پاک ہے تو کس طرح ممکن ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو میرے آقا ہیں نازل ہونے والا کلام اور وہ بھی قرآن کریم جو ہمیشہ کے لئے ہدایت بننے والا تھا شیطانی اثر کو قبول کرے خواہ ایک آن کے لئے ہی سہی۔آپ نے مسلمانوں کو بتایا کہ قرآن کریم یقینی کلام ہے اس کی حفاظت کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے اور اس وعدہ کا ایفاء اس رنگ میں اس نے کیا ہے کہ دشمن بھی اس کی حفاظت کے قائل ہیں پس اس کے مقابلے میں حدیث کو رکھنا اس کی گستاخی کرنا اور اس کو