دعوت الامیر — Page 195
(190) دعوة الامير بعض نے اللہ کے کلام سے یہ سلوک کیا ہے کہ اس کے ربط اور اس کی ترتیب کے بھی منکر ہو گئے ہیں۔گویا ان کے نزدیک جس طرح کوئی شخص بیہوشی میں ادھر اُدھر کی باتیں کرتا ہے۔اسی طرح قرآن کریم میں ہلاکسی ترتیب کے مختلف واقعات کو بیان کر دیا گیا ہے۔کوئی خاص ترتیب اور مضمون مد نظر نہیں۔بعض نے بلکہ اس وقت کے کل مسلمانوں نے کلام الہی کے متعلق ایک اور ظلم کیا ہے کہ کہہ دیا ہے کہ پہلے اللہ کا کلام دنیا پر نازل ہوتا تھا لیکن اب نہیں ہوتا، گویا اب اللہ تعالیٰ کی ایک صفت معطل ہوگئی ہے وہ دیکھتا ہے سنتا ہے لیکن بولتا نہیں، نعوذ باللہ من ذالک۔غرض ہر شخص سے جس قدر ہو سکا اس نے کلام پاک کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کی خوبصورتی کو لوگوں کی نظروں سے چھپانا چاہا ہے اور ان سب کوششوں کا نام خدمت قرآن رکھا ہے حالانکہ ان کوششوں کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ دنیا قرآن کریم سے متنفر ہوگئی ہے اور اس کا اثر دلوں سے اُٹھ گیا ہے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے اے بادشاہ ! ان تمام عیوب کو آکر دور کیا اور دلائل سے ثابت کیا ہے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا آخری ہدایت نامہ ہے وہ نسخ سے محفوظ ہے اُس کے اندر جو کچھ موجود ہے مسلمانوں کے لئے قابل عمل ہے اور اس کا کوئی حصہ نہیں جو دوسرے حصے کے مخالف ہو اور قابل نسخ سمجھا جائے جو اس میں اختلاف دیکھتا ہے وہ خود جاہل اور اپنی کم علمی کو قرآن کریم کی طرف منسوب کرتا ہے اس کے اندر کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ، اس کا ایک ایک لفظ اور ایک ایک حرف اسی طرح ہے جس طرح کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوا تھا اور صرف یہی نہیں بلکہ اس کے اندر کوئی تبدیلی کی ہی نہیں جاسکتی۔نہ اس کے بعض مضامین کو بدل کر اور نہ اس کے اندر کوئی نئی عبارت بڑھا کر اور نہ