دعوت الامیر — Page 197
(192) دعوة الامير جان بوجھ کر رڈ کرنا ہے۔جو حدیث قرآن کریم کے مخالف پڑتی ہے۔وہ ہرگز حدیث نبوی نہیں ہوسکتی کیونکہ اللہ کا رسول اللہ کے کلام کے مخالف نہیں کہہ سکتا اور احادیث کی تدوین ایسی محفوظ نہیں ہے جیسا کہ قرآن کریم محفوظ ہے۔پس قرآن کریم کو زبردستی حدیث کے ماتحت نہیں کرنا چاہئے بلکہ حدیث کو قرآن کریم کے ماتحت کرنا چاہئے اور اگر دونوں مطابق نہ ہو سکیں تو حدیث کو جو ممکن ہے کہ کسی انسان کی دانستہ یا نادانستہ دست برد سے خراب ہو چکی ہو چھوڑ دینا چاہئے۔اور آپ نے ان لوگوں کے جواب میں جو یہ کہتے ہیں کہ پورا دین تو ہمیں حدیث سے معلوم ہوا ہے بتایا کہ حدیث اور قرآن کے علاوہ ایک تیسری چیز سنت ہے یعنی وہ کام جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کر کے دکھائے اور جو بلا واسطہ صحابہ نے آپ کو کرتے ہوئے دیکھ کر آپ سے سیکھے اور ان کے مطابق عمل کیا ، کسی زبانی حدیث کی ان کے لئے ہمیں ضرورت نہیں ، ہزاروں لاکھوں مسلمانوں نے ہزاروں لاکھوں مسلمانوں کو وہ کام کرتے ہوئے دیکھا اور اس سے اگلوں نے سیکھا۔یہ سنت کبھی قرآن کریم کے مخالف نہیں ہوتی ، ہاں حدیث جوز بانی روایت ہے وہ کبھی قرآن کے مخالف بھی ہو جاتی ہے اور اس میں شبہ کی گنجائش ہوتی ہے جب وہ قرآن کریم کے مخالف ہو تو وہ قابل رڈ ہے اور جب اس کے مطابق ہو قابل قبول۔کیونکہ تاریخی شہادت ہے اور تاریخی شہادت کو بلا وجہ رد نہیں کیا جاسکتا ہے ورنہ بہت سی صداقتیں دنیا سے مفقود ہو جائیں۔آپ نے اس خیال کی لغویت کو بھی ظاہر کیا کہ قرآن کریم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ہیں اور بتایا کہ قرآن کریم کا لفظ لفظ اللہ کا کلام ہے ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو صرف وحی کے سنانے والے تھے نہ کہ اس کے بنانے والے۔یہ وسوسہ درست نہیں