دعوت الامیر — Page 194
۱۹۴ دعوة الامير اللہ ہی کا کلام کہلانا چاہئے ورنہ الفاظ ( نعوذ باللہ من ذالک) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تیار کردہ ہیں، کیونکہ (ان کے نزدیک اللہ کا کلام الفاظ میں جو اپنے ادا ہونے کے لئے ہونٹ اور زبان چاہتے ہیں نہیں نازل ہوسکتا۔بعض نے اللہ کے کلام سے یہ سلوک کیا ہے کہ فیصلہ کر دیا ہے کہ اس کا ترجمہ ہی نہیں کیا جا سکتا گویا عوام الناس تک اس کے پہنچانے کا جو ذریعہ تھا اُس کو بند کر کے مسلمانوں کو اللہ کے کلام کا مفہوم سمجھنے سے روک دیا ہے اور اس طرح بے دینی کی اشاعت کے ذمہ دار ہو گئے ہیں۔بعض نے اللہ کے کلام سے یہ سلوک کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ قرآن ایک مجمل کتاب ہے اس میں اشارۃ بعض ضروری باتیں تو بتا دی گئی ہیں لیکن کوئی مسئلہ اس سے ثابت نہیں ہوسکتا۔بعض نے اللہ تعالیٰ کے کلام سے یہ سلوک کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم تمام کا تمام تقدیم اور تاخیر سے بھرا پڑا ہے۔جب تک اس کو مد نظر نہ رکھیں اس کی بات سمجھ میں نہیں آسکتی۔بعض نے اللہ تعالیٰ کے کلام کے ساتھ یہ سلوک کیا ہے کہ تمام دنیا کے قصے اور کہانیاں جن کو عقل سلیم رڈ کرتی ہے اور فطرت ان سے نفرت کرتی ہے اکٹھی کر کے قرآن کریم کی طرف منسوب کر دی ہیں اور مضمون ملے یا نہ ملے، بلکہ خواہ الفاظ قرآن کریم ان کے خلاف ہوں وہ اسرائیلی قصوں کے ماتحت اس کے مضمون کو لے آتے ہیں اور ان قصوں کو اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر بتاتے ہیں اور ان کو پہلے بزرگوں اور اولیاء اللہ کی طرف بھی منسوب کرنے سے نہیں جھجکتے۔