دعوت الامیر — Page 193
۱۹۳ دعوة الامير بے اعتباری پیدا ہوتی ہے اس کو یوں دور کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بتا دیا ہے کہ فَيَنْسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَنُ ثُمَّ يُحْكُمُ اللهُ أَيَتِهِ وَ اللهُ عَلِيمٌ حَكِيمُ (الحج : ۵۳) یعنی پھر اللہ تعالیٰ شیطان کی ملاوٹ کو تو مٹا دیتا ہے۔اور اپنی آیتوں کو قائم کر دیتا ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے، مگر اس جواب سے کسی کو تسلی کب ہو سکتی ہے کیونکہ اگر شیطان بھی نعوذ باللہ کلام الہی میں دست اندازی کر سکتا ہے تو پھر اس کا کیا ثبوت ہے کہ یہ آیت بھی شیطانی نہیں ہے اور شیطان نے اپنی ملاوٹ کی طرف سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مطمئن کرنے کے لئے یہ نہیں کہہ دیا ہے کہ شیطان کی طرف سے جو کلام ہو وہ مٹادیا جاتا ہے تا کہ جو نہ مٹا دیا جائے اس کو اللہ کا کلام سمجھ لیا جائے۔بعض لوگوں نے قرآن کریم کو ایسا بے وقعت کر دیا ہے کہ اس کے صریح اور صاف احکام کو ضعیف بلکہ موضوع احادیث کے تابع کر دیا ہے اور اتباع سنت کے نام سے اللہ ذوالجلال کے کلام کو بعض خود غرض اور اخلاق ذمیمہ رکھنے والے انسانوں کے خیالات کے تابع کر دیا ہے۔قرآن کریم خواہ چلا چلا کر کسی کو رد کرے۔لیکن اگر ضعیف سے ضعیف حدیث میں بھی اس کا ذکر ہو تو وہ اس کو وحی الہی پر مقدم کر لیں گے اور اگر قرآن کریم کسی بات کو بیان کرتا ہو لیکن حدیث میں اس کا رڈ ہو تو وہ قرآن کو پس پشت ڈال دیں گے اور حدیث کے بیان کو صحیح سمجھ لیں گے۔بعض لوگوں نے کلام الہی سے یہ سلوک کیا ہے کہ وہ اسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خیال قرار دیتے ہیں اور اس کے اللہ کا کلام ہونے سے انکاری ہیں وہ منہ سے تو یہی کہتے ہیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے مگر ساتھ ہی اس کی تشریح یہ کرتے ہیں کہ رسول کریم کے صاف دل میں جو خیال پیدا ہوتے تھے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی تائید سے ہوتے تھے اس لئے وہ