دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 397

دعوت الامیر — Page 170

(K۔) دعوة الامير سے آنے والی کتاب ہماری ہدایت کے لئے آئی ہے تو چاہئے کہ جو کچھ وہ ہمیں منوانا چاہتی ہے وہ بھی اس میں موجود ہو اور جن دلائل کی وجہ سے منوانا چاہتی ہے وہ بھی اس میں موجود ہوں کیونکہ اگر خدا کا کلام دعوے اور دلائل دونوں سے خالی ہے تو پھر اس کا ہمیں کیا فائدہ ہے؟ اور اگر دعوی بھی ہم پیش کرتے ہیں اور دلائل بھی ہم ہی دیتے ہیں تو پھر اللہ کے کلام کا کیا فائدہ؟ اور ہمارا مذہب اللہ کا دین کہلانے کا کب مستحق ہے وہ تو ہمارا دین ہوا اور اللہ کا ہم پر کوئی احسان نہ ہوا کہ ہم نے ہی اس کے دین کے لئے دعوے تجویز کئے اور ہم نے ہی ان دعوؤں کے دلائل مہیا کئے۔پس ضروری ہے کہ مذہبی تحقیق کے وقت یہ امر مد نظر رکھا جائے کہ آسمانی مذاہب کے مدعی جو دعویٰ اپنے مذاہب کی طرف سے پیش کریں وہ بھی ان کی آسمانی کتب سے ہو اور جو بھی ان کی آسمانی کتب سے ہو اور جو دلائل دیں وہ بھی انہی کی کتب سے ہوں۔یہ اصل ایساز بر دست تھا کہ دوسرے ادیان اس کا ہر گز انکار نہیں کر سکتے تھے کیونکہ اگر وہ کہتے کہ نہیں ہم نہیں کر سکتے تو اس کے یہ معنے ہوتے کہ جو مذہب وہ بیان کرتے ہیں وہ مذہب وہ نہیں ہے جو ان کی آسمانی کتب میں بیان ہوا ہے کیونکہ اگر وہی مذہب ہے تو پھر کیوں وہ اپنی آسمانی کتاب سے اس کا دعوی بیان نہیں کر سکتے یا اگر دعوی بیان کر سکتے ہیں تو کیوں ان کی آسمانی کتاب دلیل سے خالی ہے۔جب خدا تعالیٰ نے انسان کے دماغ کو ایسا پیدا کیا ہے کہ وہ بلا دلیل کے کسی بات کو نہیں مان سکتا تو کیوں وہ اسے ایمان کی باتیں بتاتے وقت ایسے دلائل نہیں دیتا جن کی مدد سے وہ ان باتوں کو قبول کر سکے۔غرض غیر مذاہب کے لوگ اس اصل کو نہ رد کر سکتے تھے ، کیونکہ ان کے رد کرنے کے یہ معنے تھے کہ ان کے مذہب بالکل ناقص اور ر دی ہیں اور نہ قبول کر سکتے تھے کیونکہ اے بادشاہ! آپ کو یہ معلوم کر کے