دعوت الامیر — Page 171
(KI) دعوة الامير حیرت ہوگی کہ جب اس اصل کے ماتحت دوسرے مذاہب کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ قریباً نوے فیصدی ان کے دعوے ایسے تھے جو ان کی الہامی کتب میں نہیں پائے جاتے تھے اور جس قدر دعوے مذہبی کتب سے نکلتے تھے ان میں قریباً سو فیصدی ہی دلائل کے بغیر بیان کئے گئے تھے ، گویا خدا نے ایک بات بتا کر انسان پر چھوڑ دیا تھا کہ وہ اپنی وکالت سے اس کی بات کو ثابت کرے۔حضرت اقدس نے ثابت کردیا کہ مختلف مذاہب کے پیرو اپنے دل سے باتیں بنابنا کر یا ادھر ادھر سے خیالات کچرا کر اپنے مذہب کی طرف منسوب کر دیتے ہیں اور ان مذاہب کی فوقیت پر بخشیں کر کے لوگوں کا وقت ضائع کرتے ہیں کیونکہ اگر وہ اپنی بات کو ثابت بھی کر دیں تو اس سے یہ نتیجہ تو نکل آئے گا کہ ان کے خیالات ان مسائل کے متعلق درست ہیں مگر یہ نتیجہ نہ نکلے گا کہ ان کا مذہب بھی سچا ہے کیونکہ وہ بات ان کی مذہبی کتاب میں پائی ہی نہیں جاتی۔پھر آپ نے یہ ثابت کیا کہ قرآن کریم تمام اصول اسلام کو خود پیش کرتا ہے اور ان کی سچائی کے دلائل بھی دیتا ہے اور اس کے ثبوت میں آپ نے سینکڑوں مسائل کے متعلق قرآن کریم کا دعویٰ اور اس کے دلائل پیش کر کے اپنی بات کو روز روشن کی طرح ثابت کر دیا اور دشمنان اسلام آپ کے مقابلے سے بالکل عاجز آگئے اور وہ اس حربے سے اس قدر گھبرا گئے ہیں کہ آج تک ان کو کوئی حیلہ نہیں مل سکا جس سے اس کی زد سے بچ سکیں اور نہ آئندہ مل سکتا ہے۔یہ علم کلام ایسا مکمل اور اعلیٰ ہے کہ نہ اس کا انکار کیا جا سکتا ہے اور نہ اس کی موجودگی میں جھوٹ کی تائید کی جاسکتی ہے۔پس جوں جوں اس حربے کو استعمال کیا جائے گا ادیان باطلہ کے نمائندے مذہبی مباحثات سے جی چرائیں گے اور ان کے پیروؤں پر اپنے مذہب کی کمزوری کھلتی جائے گی اور لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ کا