دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 397

دعوت الامیر — Page 169

(IMA) دعوة الامير دینے سے حضرت مسیح موعود نے اسلام کے غلبہ کا ایک یقینی سامان پیدا کر دیا ہے۔چوتھا حربہ جو آپ نے اسلام کو غالب کرنے کے لئے استعمال کیا اور جس نے اسلام کے خلاف تمام مباحثات کے سلسلے کو بدل دیا ہے اور غیر مذاہب کے پیروؤں کے ہوش اڑا دیئے ہیں یہ ہے کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے رائج الوقت علم کلام کو بالکل بدل دیا اور اس کے ایسے اصول مقرر فرمائے کہ نہ تو دشمن انکار کر سکتا ہے اور نہ ان کے مطابق وہ اسلام کے مقابلے میں ٹھہر سکتا ہے اگر وہ ان اصولوں کو رد کرتا ہے تب بھی مرتا ہے اور اگر قبول کرتا ہے تب بھی مرتا ہے۔نہ فرار میں اسے نجات نظر آتی ہے نہ مقابلے میں حفاظت۔آپ سے پہلے تنقید اور مباحثے کا یہ طریق تھا کہ ایک فریق دوسرے فریق پر جو چاہتا اعتراض کرتا چلا جاتا تھا اور اپنی نسبت جو کچھ چاہتا تھا کہتا چلا جاتا تھا اور یہ بات ظاہر ہے کہ جب مناظرے کا میدان غیر محدود ہو جائے تو مناظرے کا نتیجہ کچھ نہیں نکل سکتا۔جب چند سوار دوڑنے لگتے ہیں تو بعض قواعد کے مطابق دوڑتے ہیں۔تب جا کر جیتنے والے کا پتہ لگتا ہے اگر کوئی کسی طرف کو اور کوئی کسی طرف کو دوڑ جائے تو کیا معلوم ہوسکتا ہے کہ کون جیتا۔اس طرح دوڑ نے والوں کے متعلق ہم کبھی بھی صحیح رائے قائم نہیں کر سکتے ، اسی طرح مذہبی تحقیق کے معاملے میں جب تک حد بندی نہ ہورائے قائم نہیں کی جاسکتی۔پہلے یہ یق تھا کہ ہر شخص کو جو بات اچھی معلوم ہوئی خواہ کسی کتاب میں پڑھی ہو اپنے مذہب کی طرف منسوب کر دی اور کہہ دیا کہ دیکھو ہمارے مذہب کی تعلیم کیسی اچھی ہے گو یا اصل مذہب کے متعلق کوئی گفتگو ہی نہ ہوتی تھی ، بلکہ علماء اور مباحثین کے ذاتی خیالات پر گفتگو ہوتی رہتی تھی ، نتیجہ یہ نکلتا تھا کہ متلاشیان حق کو فیصلہ کرنے کا موقع نہ ملتا تھا آپ نے آکر اس طریق مباحثہ کو خوب وضاحت سے غلط ثابت کیا اور اور بتایا کہ اگر خدا تعالیٰ کی طرف