دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 3 of 397

دعوت الامیر — Page 3

(r) دعوة الامير بہترین نام اس زمانے کی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے احمدی ہی تھا، کیونکہ یہ زمانہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے پیغام کی اشاعت کا زمانہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی حمد کی اشاعت کا زمانہ ہے۔پس آپ کی صفتِ احمدیت کے ظہور کے وقت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس نام سے بہتر کوئی امتیازی نام اس وقت نہیں ہوسکتا تھا۔غرض ہم لوگ سچے دل سے مسلمان ہیں اور ہر ایک ایسی بات کو جس کا ماننا ایک سچے مسلمان کے لئے ضروری ہے مانتے ہیں اور ہر وہ بات جس کا رد کرنا ایک سچے مسلمان کے لئے ضروری ہے اسے رد کرتے ہیں اور وہ شخص جو باوجود تمام صداقتوں کی تصدیق کرنے کے اور اللہ تعالیٰ کے تمام احکام کو ماننے کے ہم پر کفر کا الزام لگا تا ہے اور کسی نئے مذہب کا ماننے والا قرار دیتا ہے وہ ہم پر ظلم کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کے حضور میں جوابدہ ہے۔انسان اپنے منہ کی بات پر پکڑا جاتا ہے نہ کہ اپنے دل کے خیال پر۔کون کہہ سکتا ہے کہ کسی کے دل میں کیا ہے؟ جو شخص کسی دوسرے پر الزام لگاتا ہے کہ جو کچھ یہ منہ سے کہتا ہے وہ اس کے دل میں نہیں ہے، وہ خدائی کا دعویٰ کرتا ہے کیونکہ دلوں کا جاننے والا صرف اللہ ہے اس کے سوا کوئی نہیں کہہ سکتا کہ کسی کے دل میں کیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ عارف اور کون ہو گا۔آپ اپنی نسبت فرماتے ہیں۔انَّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ إِلَيَّ وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرْ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ الْحَنَ بِحَجَتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَإِنْ قَضَيْتُ لِأَحَدٍ مِنْكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ فَإِنَّمَا أَقْطَعَ لَهُ قِطْعَةً مِّنَ النَّارِ فَلَا يَا خُذْ مِنْهُ شَيْئاً (ترمذی ابواب الاحكام باب ماجاء فی التشديد على من يقضى له بشيء ليس له ان ياخذه) یعنی تم میں سے بعض لوگ میرے پاس جھگڑالاتے ہیں اور میں بھی آدمی ہوں۔ممکن ہے کہ کوئی آدمی تم میں سے دوسرے کی نسبت عمدہ طور پر جھگڑا کرنے والا ہو، پس اگر