دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 397

دعوت الامیر — Page 4

(r) دعوة الامير میں تم میں سے کسی کو اس کے بھائی کا حق دلا دوں تو میں اُسے ایک آگ کا ٹکڑا کاٹ کر دیتا ہوں اسے چاہئے کہ اُسے نہ لے۔اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ اُسامہ بن زید کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فوج کا افسر بنا کر بھیجا۔ایک شخص کفار میں سے اُن کو ملا جس پر انہوں نے حملہ کیا، جب وہ اس کو قتل کرنے لگے تو اس نے کلمہ شہادت پڑھ دیا۔مگر باوجود اس کے انہوں نے اسے قتل کر دیا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے ان سے دریافت کیا کہ انہوں نے کیوں ایسا کیا ہے؟ اس پر اُسامہ نے کہا کہ یا رسول اللہ ! وہ ڈر سے اسلام ظاہر کرتا تھا۔آپ نے فرمایا۔اَلا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ ( مسند احمد بن حنبل جلد ۵ صفحہ ۲۰۷) تو نے اس کا دل پھاڑ کر کیوں نہ دیکھا۔یعنی تجھے کیا معلوم تھا کہ اُس نے اظہار اسلام ڈر سے کیا تھا یا سچے دل سے کیونکہ دل کا حال انسان سے پوشیدہ ہوتا ہے۔غرض فتویٰ منہ کی بات پر لگایا جاتا ہے نہ کہ دل کے خیالات پر۔کیونکہ دل کے خیالات سے صرف اللہ تعالیٰ آگاہ ہوتا ہے اور جو بندہ کسی کے دل کے خیالات پر فتوی لگاتا ہے وہ جھوٹا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے حضور قابل مواخذہ۔پس ہم لوگ یعنی جماعت احمدیہ کے افراد جبکہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں تو کسی کا حق نہیں کہ وہ یہ فتویٰ ہم پر لگائے کہ ان کا اسلام صرف دکھاوے کا ہے ورنہ یہ دل سے اسلام کے منکر ہیں یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانتے اور کوئی نیا کلمہ پڑھتے ہیں یا نیا قبلہ انہوں نے بنا رکھا ہے۔اگر ہماری نسبت اس قسم کی باتیں کہنی جائز ہیں تو ہم پر اس قسم کے الزامات لگانے والوں کی نسبت ہم بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ ظاہر میں اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں اور اپنے گھروں میں جا کر یہ لوگ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور