دعوت الامیر — Page 2
دعوة الامير جناب من! پیشتر اس کے کہ میں کوئی اور بات کہوں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ جماعت احمد یہ کسی نئے مذہب کی پابند نہیں ہے بلکہ اسلام اس کا مذہب ہے اور اس سے ایک قدم ادھر اُدھر ہونا وہ حرام اور موجب شقاوت خیال کرتی ہے۔اس کا نیا نام اس کے نئے مذہب پر دلالت نہیں کرتا ہے بلکہ اس کی صرف یہ غرض ہے کہ یہ جماعت ان دوسرے لوگوں سے جو اسی کی طرح اسلام کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں، ممتاز حیثیت میں دنیا کے سامنے پیش ہو سکے۔اسلام ایک پیارا نام ہے جو خود اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کو بخشا ہے اور اس نام کو اس نے ایسی عظمت دی ہے کہ اس کے متعلق وہ پہلے انبیاء کے ذریعے پیشگوئیاں کرتا چلا آیا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ هُوَ سَمْكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِنْ قَبْلُ وَفِي هَذَا (سورة الحج : ۷۹) یعنی اس نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے پہلی کتابوں میں بھی اور اس کتاب میں بھی۔چنانچہ جب ہم پہلی کتب کو دیکھتے ہیں تو یسعیاہ میں یہ پیشگوئی اب تک درج پاتے ہیں کہ تو ایک نئے نام سے کہلائے گا جسے خداوند کامنہ خود رکھ دیگا۔“ (یسعیاہ باب ۶۲ آیت ۲، برٹش اینڈ فارن بائیبل سوسائٹی انارکی لاہور مطبوعہ ۱۹۰۶ء) پس اس نام سے زیادہ مقدس نام اور کونسا ہو سکتا ہے جسے خود خدا نے اپنے بندوں کے لئے چنا اور جسے اس قدر بزرگی دی کہ پہلے نبیوں کی زبان سے اس کے لئے پیشگوئیاں کرائیں اور کون ہے جو اس مقدس نام کو چھوڑ نا پسند کر سکتا ہے؟ ہم اس نام کو اپنی جان سے زیادہ عزیز سمجھتے ہیں اور اس مذہب کو اپنی حقیقی حیات کا موجب۔مگر چونکہ اس زمانے میں مختلف لوگوں نے اپنے اپنے خیال کی طرف رجوع کر کے اپنے مختلف نام رکھ لئے ہیں اس لئے ضروری تھا کہ اُن سے اپنے آپ کو ممتاز کرنے کے لئے کوئی نام اختیار کیا جاتا اور