دعوت الامیر — Page 119
(119) دعوة الامير تمدن موجودہ میں یہ تغیر بھی پیدا ہو چکا ہے اور امریکہ اور دیگر مسیحی ممالک میں اور ان کی دیکھا دیکھی دوسرے مذاہب کے پیروؤں میں بھی عورتوں کی آزادی کا ایک غلط مفہوم لیا جانے لگا ہے کہ سنکر حیرت ہوتی ہے اور ان خیالات کے اثر سے موجودہ تمدن پچھلے تمدن سے بالکل بدل گیا ہے، عورتیں کثرت سے مردوں کے ساتھ مل کر گھوڑوں پر سوار ہوکر شکار اور گھوڑ دوڑوں میں شامل ہوتیں ہیں بلکہ سرکس میں تماشے دکھاتیں ہیں اور مردوں کا لباس پہننے کا رواج بھی مسیحی ممالک میں کثرت سے ہے، علی الخصوص جنگ کے بعد سے تو لاکھوں عورتوں نے بالکل مردانہ لباس پہنا شروع کر دیا ہے۔برجس اور چھوٹا کوٹ بھی ان میں ایک فیشن کی صورت اختیار کر گیا ہے۔عورتوں کو جو حکومت مردوں پر حاصل ہو چکی ہے وہ بھی اپنی نوعیت میں نرالی ہے۔در حقیقت اس امر میں یورپ کے تمدن اور اس کے اثر سے دیگر ہلا د کے تمدن میں ایسا فرق آ گیا ہے کہ اس کے بدتنائج اگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے دور نہ ہوئے تو ان کے دور ہونے کی اور کوئی صورت نہیں، یا تو ان کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ کوئی خطر ناک فساد پھوٹے گا یا شادی کا رواج بالکل بند ہو جائے گا اور نسل انسانی کی ترقی کو ایک نا قابل برداشت صدمہ پہنچے گا۔ایک علامت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت کے تمدن کی یہ بتائی ہے کہ اس وقت مرد عورتوں کی طرح زینت کریں گے اور ان کی شکلیں اختیار کریں گے (حجج الكرامة في أثار القيامة صفحہ ۲۹۸ مطبوعہ بھوپال ۱۲۰۹ھ کنز العمال جلد ۱۴ صفحه ۵۷۳ روایت ۳۹۶۳۹ مطبوعه حلب ۱۹۷۵ء) یہ تغیرات بھی پیدا ہو چکے ہیں۔دنیا کا اکثر حصہ داڑھیاں منڈوا کر عورتوں سے مشابہت اختیار کر رہا ہے۔کسی وقت داڑھی مرد کے لئے زینت سمجھی جاتی تھی اور مسلمانوں