دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 397

دعوت الامیر — Page 118

(HA) دعوة الامير چنانچہ یورپ کی عورتوں کا یہی طریق ہے۔وہ سر کو گوندھنا نا پسند کرتی ہیں اور بال پھلا کر اس طرح رکھتیں ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ گو یا سر پر کچھ اور چیز رکھی ہے دوسری اقوام بھی ان کے اقتدار سے متاثر ہو کر ان کی نقل کر رہی ہیں اور جس طرح لوگ ان کے باقی اقوال و افعال کو وحی آسمانی سے زیادہ قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اس امر میں بھی ان کی اتباع میں تہذیب کی ترقی دیکھتے ہیں۔ایک علامت اس زمانے کی حضرت ابن عباس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت کی ہے کہ اسوقت عورت اپنے خاوند کے ساتھ مل کر تجارت کرے گی (حجج الكرامة في أثار القيامة صفحہ ۲۹۷ مطبوعہ بھو پال ۱۲۰۹ھ کنز العمال جلد ۱۴ صفحه ۵۷۳ روایت ۳۹۶۳۹ مطبوعه حلب ۱۹۷۵ء) یہ علامت بھی ظاہر ہو چکی ہے۔بلکہ اس کا اس قدر زور ہے کہ عورتوں کے بغیر تجارت کامیاب ہی نہیں سمجھی جاتی اور اس سے بھی زیادہ اب یہ حالت پیدا ہو رہی ہے کہ یورپ کے بعض شہروں میں دُوکانوں پر بعض خوبصورت عورتیں صرف اس غرض سے رکھی جاتی ہیں کہ وہ گاہکوں سے مل کر ان کے دل لبھانے کی کوشش کیا کریں تا وہ ضرور سودا و ہیں سے خریدیں اور خالی نہ لوٹ جاویں۔ایک علامت اس زمانے کے تمدن کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمائی ہے کہ اس وقت عورتیں اس قدر آزاد ہوں گی کہ وہ مردوں کا لباس پہنیں گی اور گھوڑوں پر سوار ہوں گی، (کنز العمال جلد ۱۴ صفحه ۵۷۳ روایت ۳۹۶۳۹ مطبوعه حلب ۱۹۷۵ء) بلکہ مردوں پر حکمران ہوں گی (حجج الكرامة في أثار القيامة صفحه ۲۹۸ مطبوعہ بھوپال ۱۲۰۹ھ )