دعوت الامیر — Page 100
(I۔۔) دعوة الامير دنیا اس کی نظروں میں ایک جیفے سے زیادہ حقیقت نہ رکھتی تھی وہ دنیا کی خاطر دین کو فروخت کرے گی (ترمذی ابواب الفتن باب ماجاء ستكون فتنة كقطع الليل المظلم ) اور یه تغییر اس وقت ایسی کثرت سے ہو رہا ہے کہ ایک اسلام سے محبت رکھنے والے کا دل اسے دیکھ کر پگھل جاتا ہے علماء اور صوفیاء اور امراء اور عوام سب دنیا کو دین پر مقدم رکھ رہے ہیں اور ادنی ادنی دنیاوی فوائد کے لئے دین اور مفادِ اسلام کو قربان کر رہے ہیں۔ایک تغیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بروایت ابن عباس ابن مردویہ (حجج الكرامة في أثار القيامة صفحه ۷ ۲۹ مطبوعه بهوپال ۱۲۰۹ھ) نے یہ بیان کیا ہے کہ اس زمانے میں نماز ترک ہو جائے گی ( کنزل العمال جلد ۱۴ صفحه ۵۷۳ روایت ۳۹۶۳۹ مطبوعه حلب ۱۹۷۵ء)، چنانچہ یہ تغیر بھی پیدا ہو چکا ہے۔تعداد کے لحاظ سے کل مسلمان کہلانے والے لوگوں میں سے ایک فی صدی بمشکل پانچوں نمازوں کے پابند نظر آویں گے۔حالانکہ نماز عملی ارکان میں سے اول رکن ہے اور بعض علماء کے نزدیک اس کا تارک کافر ہے۔اس وقت مساجد بہت ہیں، لیکن ان میں نمازی نظر نہیں آتے ، بلکہ بہت سی مساجد میں جانور رہتے ہیں اور ان کی بے حرمتی کرتے ہیں مگر مسلمانوں کو ان کی آبادی کی فکر نہیں۔ایک تغییر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اس وقت لوگ نماز بہت جلد جلد پڑھا کریں گے چنانچہ ابن مسعود کی روایت سے ابوالشیخ نے اشاعۃ (حجج الكرامة في أثار القيامة صفحه ۲۹۶ مطبوعہ بھوپال ۱۲۰۹ھ ) میں بیان کیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پچاس آدمی نماز پڑھیں گے اور ان میں سے کسی کی ایک نماز بھی قبول نہ ہوگی۔(حجج الكرامة في أثار القيامة صفحه ۲۹۶ مطبوعہ بھوپال ۱۲۰۹ء)