دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 397

دعوت الامیر — Page 101

۱۰۱ دعوة الامير اس کا مطلب یہی ہے کہ جلدی جلدی نمازیں پڑھیں گے۔باطن کی قبولیت تو کسی بات کی علامت نہیں قرار دی جاسکتی کیونکہ اس کا علم سوائے خدا کے کسی کو نہیں ہوسکتا اور ظاہری علامات میں سے جن سے عدم قبولیت نماز کا حال معلوم ہوتا ہے سب سے ظاہر نماز کا جلد جلد پڑھنا ہی ہے کہ جلد جلد نماز ادا کرنے والے سے خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز نہیں ہوئی ، پھر ڈ ہرا (ترمذی ابواب الصلوة باب ماجاء في وصف الصلوة) یہ تغیر بھی اس وقت پایا جاتا ہے جو لوگ نماز پڑھتے ہیں وہ نماز کو اس قدر جلد جلد ادا کرتے ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے مرغ چونچیں مار رہا ہے اور نماز کے بعد لمبے لمبے وظیفے پڑھتے رہتے ہیں۔ایک علامت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بیان فرماتے ہیں کہ اس وقت قرآن اٹھ جائے گا اور صرف اس کا نقش باقی رہ جائے گا۔(مشكوة كتاب العلم الفصل الثالث صفحه ۳۸ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ آرام باغ کراچی ۱۳۶۸ھ ) یہ علامت بھی اس وقت پوری ہو چکی ہے۔قرآن کریم موجود ہے مگر اس پر غور اور تدبر کوئی نہیں کرتا۔عجیب بات ہے کہ سوائے جماعت مسیح موعود علیہ السلام کے دنیا بھر میں قرآن کریم کہیں نہیں پڑھا جاتا۔بعض اچھے اچھے مولوی فقہ اور حدیث کے ماہر قرآن کریم کے ترجمہ سے تعلق نہیں رکھتے اور اس پر غور اور تدبر کرنا حرام جانتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ چند پچھلے علماء نے جو معنے کلام الہی کے کر دیئے ہیں ان کے سوا اب کلام الہی میں کچھ باقی نہیں ہے۔حالانکہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تفسیر قرآن کا دروازہ کھلا رہا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اب وہ بند ہو گیا ہو اور اس کے معارف کی کھڑکی بند کر دی گئی ہو۔