دعوت الامیر — Page 99
(99) دعوة الامير رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کی علامات میں سے ایک یہ ہے کہ لوگ قدر کا انکار کریں گے (مسند احمد بن حنبل جلد ۲ صفحہ ۹۰ ) اور اس انکار قدر سے مراد یقینا مسلمانوں کا انکار ہے کیونکہ دوسری قومیں تو پہلے ہی اس مسئلے پر ایمان نہیں رکھتی تھیں۔یہ مرض جس زور سے مسلمانوں میں رونما ہورہا ہے اس کے بیان کی حاجت نہیں ،علوم جدیدہ کے دلدادہ مسلمان یورپ کے جاہل مصنفین کے اعتراض سے ڈر کر صاف صاف قدر کا انکار کر رہے ہیں اور اس مسئلہ مھمہ کی عظمت اور اس کے فوائد اور اس کی صداقت سے بالکل ناواقف ہور ہے ہیں۔دوسرا تغیر مسلمانوں میں آپ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ لوگ زکوۃ کو تاوان سمجھیں گے۔(ترمذی ابواب الفتن باب ماجاء فی اشراط الساعة ) یہ بھی حضرت علی سے البزار نے نقل کیا ہے ( حجج الكرامة في آثار القيامة صفحه ۲۹۸ مطبوعه بهوپال ۵۱۲۰۹) چنانچہ اس وقت جبکہ مسلمانوں پر چاروں طرف سے آفات نازل ہو رہی ہیں اور زکوۃ کے علاوہ بھی جس قدر صدقات و خیرات وہ دیں کم ہیں۔اکثر مسلمان زکوۃ کی ادائیگی سے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض ہے، جی چراتے ہیں اور جہاں اسلامی احکام کے ماتحت زکوۃ لی جاتی ہے وہاں تو بادل نخواستہ کچھ ادا بھی کر دیتے ہیں مگر جہاں یہ انتظام نہیں، وہاں سوائے شاذ و نادر کے بہت لوگ زکوۃ نہیں دیتے اور جو اقوام زکوۃ دیتی بھی ہیں وہ اسے نمود کا ذریعہ بنا لیتی ہیں اور اس رنگ میں دیتی ہیں کہ دوسرا اسے زکوۃ نہیں خیال کرتا بلکہ قومی کاموں کے لئے چندہ سمجھتا ہے۔ایک تغیر مسلمانوں کی حالت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بیان فرماتے ہیں کہ وہ قوم جو ہر ایک عزیز سے عزیز شے کو خدا اور رسول کے اشارہ پر قربان کر دیتی تھی اور