دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 397

دعوت الامیر — Page 95

(90) دعوة الامير رنگ اور اس کی عادات اور اس کے کمالات اور اس کے متعلقین کے نشانات اور اس کے گھر کا نقشہ وغیرہ بتا دیتے ہیں مثلاً یہ بتادیں کہ اس کا قد لمبا ہے اور رنگ سفید ہے اور جسم نہ دُبلا ہے نہ موٹا اور ماتھا چکلا ہے اور ناک بالا ہے اور آنکھیں موٹی موٹی اور ہونٹ موٹے ہیں اور ٹھوڑی بڑی ہے اور وہ عربی کا مثلاً عالم ہے اور مسلمانوں میں سے ہے اور اسکی قوم کے لوگ مثلاً اس کے دشمن ہیں اور اس کے اخلاق نہایت اعلیٰ درجہ کے ہیں۔اس کا گھر اس شکل کا ہے اور اس کے اردگرد کے گھر اس اس شکل کے ہیں ، اگر اس قدر علامات بتا کر ہم کسی شخص کو کسی گاؤں میں بھیجیں تو اس شخص کا پہچان لینا اور باوجودلوگوں کے دھوکا دینے کے اس کا دھوکا نہ کھانا بالکل سہل امر ہے اگر کوئی خاص زمانہ بتا نا ہوتو اس کے پہچنوانے کا یہی طریق ہے کہ اس زمانے میں مثلاً آسمانی کروں کی کیفیت اور ان کا مقام بتادیا جائے۔زمین کے اندر تغیرات جو اس وقت ہونے والے ہوں وہ بتا دیئے جاویں، اس وقت کے جو سیاسی حالات ہوں وہ بتا دیئے جاویں، اس وقت کی تمدنی حالت بتا دی جاوے، اس وقت کی مذہبی حالت بتا دی جائے۔اس وقت کی علمی حالت بتا دی جائے اس وقت کی عملی حالت بتا دی جائے اخلاقی حالت بتا دی جائے اس وقت کے تعلقات ما بین الاقوام بتا دیے جاویں، اس وقت کے ترفّہ یا اس وقت کی غربت کی حالت بتادی جائے اور اس زمانے کے میل ملاپ کے طریق اور سفر کے ذرائع پر روشنی ڈال دی جائے ، اگر ان حالات کو بیان کر دیا جائے اور پھر ایک شخص جس کو پہلے سے اس زمانے کے حالات بتا دیئے گئے ہیں اس زمانے کو پالے تو یقینا وہ اس زمانے کو دیکھتے ہی پہچان لے گا اور اس کا پہچاننا اس کے لئے کچھ بھی مشکل نہ ہوگا بلکہ یہ شناخت کا طریق ایسا ہوگا کہ اس میں شبہ کی گنجائش ہی نہ رہے گی۔