دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 397

دعوت الامیر — Page 94

۹۴ دعوة الامير اس کے بعد میں یہ بیان کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو علامات مسیح موعود اور مہدی معہود کے زمانے کے متعلق بیان فرمائی ہیں ان پر ایک ادنی تدبر سے معلوم ہوسکتا ہے کہ وہ فرداً فرداً مسیح و مہدی کے زمانے کی علامتیں نہیں ہیں بلکہ تمام مل کر ایک کامل اور ذوالوجوہ علامت بنتی ہیں۔مثلاً حدیث میں آتا ہے کہ مہدی کی ایک علامت یہ ہے کہ اس کے زمانے میں امانت اُٹھ جائے گی (کنز العمال جلد ۱۴ صفحه ۲۵ ۲ روایت ۴۸۴۹۵ مطبوعه حلب ۱۹۷۵ء ) یا یہ کہ اس وقت جہالت ترقی کر جائے گی۔(ابن ماجہ کتاب الفتن باب اشراط الساعة ) اب اگر ان علامات کو مستقل علامتیں قرار دیا جائے تو ماننا پڑے گا کہ جب امانت دنیا سے اُٹھ جائے ، اس وقت مہدی کوضرور ظاہر ہو جانا چاہئے یا علم کے اُٹھ جانے پر مہدی کوضرور ظاہر ہو جانا چاہئے حالانکہ اس تیرہ سو (۱۳۰۰) سال کے عرصے میں مسلمانوں پر کئی اُتار چڑھاؤ کے زمانے آئے ہیں۔کبھی ان میں سے علم اٹھ گیا، کبھی امانت لیکن مہدی ظاہر نہیں ہوا۔پس معلوم ہوا کہ یہ علامتیں مستقل علامتیں نہیں ہیں، بلکہ وہ سب علامتیں مل کر جنہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ سے خبر پا کر بیان فرمایا ہے نہ کہ بعض لوگوں نے اپنے دل سے بنا کر انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر دیا ہے مہدی موعود کے زمانے کی علامتیں ہیں۔ایک ایک علامت اور زمانوں میں بھی پائی جاسکتی ہے مگر متعدد علامتیں مل کر مہدی کے زمانے کے سوا اور کسی زمانے میں نہیں پائی جاسکتیں۔کسی زمانے کے پہچانے کا بھی وہی طریق ہے جو کسی ایک آدمی کے پہچانے کا طریق ہے۔جب ہمیں کسی ایسے شخص کا پتہ کسی کو دینا ہو جس کو اس نے پہلے نہیں دیکھا اور جس کا وہ واقف نہیں تو اس کا یہی طریق ہے کہ ہم اس کی شکل اور اس کے قد اور اس کے