دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 397

دعوت الامیر — Page 58

(ON) دعوة الامير اور گناہ میں مبتلا ہونا اور سرکشی کرنا جو بلا وجہ ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ سے شرک کرنا جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے کوئی بھی دلیل نازل نہیں کی اور اللہ تعالیٰ کے متعلق ایسی باتیں کہنا جن کی صداقت کا تم کوعلم نہیں ہے حرام کیا ہے اور ہر ایک جماعت کے لئے ایک وقت مقرر ہے جب ان کا وقت آجاتا ہے وہ اس سے ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔اے بنی آدم ! اگر تمہارے پاس میرے رسول آویں جو تم ہی میں سے ہوں اور تمہیں میرے نشان پڑھ پڑھ کر سنائیں تو جو لوگ تقویٰ کریں گے اور اصلاح کریں گے ، اُن کو نہ آئندہ کا ڈر ہوگا اور نہ پچھلی باتوں کا غم ہو گا، اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ اس امت میں سے بھی نبی آئیں گے، کیونکہ امت محمدیہ کے ذکر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تمہارے پاس نبی آویں تو اُن کو قبول کر لینا، ورنہ دکھ اٹھاؤ گے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہاں اما کا لفظ آیا ہے اور یہ شرط پر دلالت کرتا ہے کیونکہ حضرت آدم کے واقعہ خروج کے بعد بھی اللہ تعالیٰ نے یہی لفظ استعمال فرمایا ہے علاوہ ازیں اگر اس کو شرط بھی سمجھ لیا جائے تو بھی اس سے یہ تو معلوم ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک نبوت کا سلسلہ بند نہیں ، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی شان کے خلاف ہے کہ جس امر کی وہ آپ نفی کر چکا ہو اس کو شرط کے طور پر بھی بیان کرے۔قرآن کریم کے شواہد کے علاوہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ نبوت کا دروازہ مطلقا مسدود نہیں ، چنانچہ آنے والے مسیح کو آپ نے بار بار نبی کے لفظ سے یاد فرمایا ہے(مسلم کتاب الفتن باب ذکر الدجال وصفته ومامعه ) اگر آپ کے بعد کسی قسم کی نبوت بھی نہیں ہو سکتی تھی تو آپ نے مسیح کو نئی اللہ کہہ کر کیوں پکارا ہے۔چوتھا اعتراض ہم پر یہ کیا جاتا ہے کہ ہم جہاد کے منکر ہیں۔مجھے ہمیشہ تعجب آیا کرتا