دعوت الامیر — Page 59
(09) دعوة الامير ہے کہ اس قدر جھوٹ انسان کیونکر بول سکتا ہے کیونکہ یہ بات کہ ہم جہاد کے منکر ہیں ، بالکل جھوٹ ہے۔ہمارے نزدیک تو بغیر جہاد کے ایمان ہی کامل نہیں ہو سکتا، تمام ضعف جو اسلام اور مسلمانوں کو پہنچا ہے اور ایمان کی کمزوری بلکہ اس کا فقدان جوان میں نظر آ رہا ہے یہ سب صرف جہاد میں سستی کرنے کی وجہ سے ہے۔پس یہ کہنا کہ ہم جہاد کے منکر ہیں ہم پر افتراء ہے۔جب قرآن کریم کے بیسیوں مقامات پر جہاد کی تعلیم دی گئی ہے تو بحیثیت ایک مسلمان ہونے کے اور قرآن کریم کے شیدائی ہونے کے ہم جہاد کے منکر کس طرح ہو سکتے ہیں، ہاں ہم ایک بات کے سخت مخالف ہیں اور وہ یہ ہے کہ اسلام کے نام پر خونریزی اور فساد اور غداری اور ڈاکہ زنی اور غارت گری کی جائے کیونکہ اس سے اسلام کے خوشنما چہرے پر نہایت بد نما داغ لگ جاتا ہے۔ہم اس بات کو برداشت نہیں کر سکتے کہ حرص اور طمع اور نفسانیت اور ذاتی فوائد کی خاطر اسلام کے مقدس احکام کو بگاڑا جائے۔غرض ہم جہاد کے منکر نہیں ہیں بلکہ اس بات کے مخالف ہیں کہ کوئی شخص ظلم اور تعدی کا نام جہا در رکھ دے۔اے امیر ! آپ اس امر کو سمجھ سکتے ہیں کہ اگر کسی شخص کے محبوب پر کوئی حرف گیری کرے تو مُحب کو یہ امرکس قدر برا معلوم ہوتا ہے اور وہ شخص جو اس حرف گیری کا محرک ہو اسے اس پر کسقد رطیش آتا ہے، ہمیں بھی ان لوگوں پر شکوہ ہے جو اسلام کو اپنے نام سے بدنام کرتے ہیں کیونکہ وہ مسلمان کہلا کر اسلام سے دشمنی کرتے ہیں، آج دنیا اسلام کو ایک غیر مہذب مذہب اور اسلام کے رسول کو ایک جابر بادشاہ خیال کرتی ہے۔کیا اس لئے کہ اس نے رسول کریم کی زندگی میں کوئی ایسی بات دیکھی ہے جو خلاف تقوی یا خلاف دیانت ہے۔نہیں بلکہ اس وجہ سے کہ مسلمانوں نے اپنے اعمال سے اس کے دماغ میں بعض ایسی باتیں داخل کر دی ہیں کہ وہ ان کو ایک دم کے لئے بھی بھلا نہیں سکتی۔میرے نزدیک ان