دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 380 of 397

دعوت الامیر — Page 380

۳۸۰ دعوة الامير ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے قہر کی تلوار کے نیچے ہے بہتر ہوتا کہ اس کی ماں اس کو نہ جنتی اور وہ مٹی رہتا۔اس نجس دن کو نہ دیکھتا۔اے بادشاہ ! مسیح موعود کی آمد کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے بڑے بڑے وعدے وابستہ ہیں اس کے ذریعے سے اسلام کو ایک نئی زندگی دی جائے گی۔جس طرح ایک خشک درخت زور کی بارش سے جو وقت پر پڑتی ہے ہر اہو جاتا ہے اسی طرح مسیح موعود کی آمد سے اسلام سرسبز و شاداب ہوگا اور ایک نئی طاقت اور نئی روح ان لوگوں کو دی جائے گی جو مسیح موعودؓ پر ایمان لائیں گے، اللہ تعالیٰ نے دیر تک صبر کیا اور خاموش رہا۔مگر اب وہ خاموش نہیں رہے گا وہ کبھی اس امر کی اجازت نہیں دے گا کہ اس کے بندے کو اس کا شریک بنایا جائے ، اُس کا بیٹا قرار دیکر یا آسمان پر زندہ مان کر یا مردے زندہ کرنے والا اور نئی مخلوق پیدا کرنے والا قرار دیکر۔وہ رحم کرنے والا ہے مگر غیرت مند بھی ہے۔اس نے دیر تک انتظار کیا کہ اس کی پاک کتاب کی طرف لوگ کب توجہ کرتے ہیں مگر مسلمانوں نے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا۔وہ لغویات کی طرف متوجہ ہو گئے مگر اللہ تعالیٰ کے کلام کی انہوں نے کچھ قدر نہ کی اور یہ آیت اُن کو بھول گئی کہ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا ( الفرقان: (۳۱) پس اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف سے منہ پھیر لیا اور اب وہ اس وقت تک ان کی طرف منہ نہیں کرے گا جب تک وہ اس کے مسیح موعود کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیکر اس بات کا اقرار نہیں کرتے کہ وہ آئندہ اس سے بے توجہی نہیں کریں گے اور اپنی پچھلی غلطیوں کا تدارک کریں گے۔لوگوں نے دنیا سے محبت کی مگر اللہ تعالیٰ سے محبت نہ کی۔تو اللہ تعالیٰ نے دنیا بھی ان سے لے لی اور ذلت کی ماران پر ماری۔انہوں نے مسلمان کہلا کر اللہ تعالیٰ کے محبوب کو تو زمین میں دفن کیا مگر حضرت مسیح “ کو زندہ آسمان پر جا بٹھایا تو اُس