دعوت الامیر — Page 381
(FAI) ۳۸۱ دعوة الامير نے بھی ان کو زمین پر مسل دیا اور مسیحیوں کو اُن کے سر پر لا کر سوار کیا۔یہ حالت ان کی نہیں بدل سکتی جب تک کہ وہ اپنی اندرونی اصلاح نہ کریں۔ظاہری تدابیر آج کچھ کام نہیں دے سکتیں، کیونکہ یہ سب تباہی اللہ تعالیٰ کے غضب کے نتیجے میں ہے جب تک مسلمان اللہ تعالیٰ سے صلح نہیں کریں گے اس وقت تک یہ روز بروز ذلیل ہی ہوتے چلے جائیں گے پس مبارک وہ جو اللہ تعالیٰ سے صلح کرنے کو دوڑتا ہے۔یقیناً وہ ذلت سے بچایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ کی نصرت اس کے ساتھ ہوگی اور اس کا ہاتھ اس کے آگے آگے ہوگا۔اے بادشاہ! مسیح موعود کی آمد کوئی معمولی واقعہ نہیں بلکہ بہت بڑا وا قعہ ہے مسیح موعود وہ ہے جسے رسول کریم نے سلام بھیجا ہے (در منثور مؤلفہ علامہ جلال الدین السیولی جلد ۲ صفحہ ۲۴۲ زیر آیت "وإن من اهل الكتب) اور فرمایا ہے کہ خواہ سخت سخت صعوبتیں اُٹھا کر بھی اس کے پاس جانا پڑے تب بھی مسلمانوں کو اس کے پاس جانا چاہیے (ابن ماجہ کتاب الفتن باب خروج المهدى مطبوعة دار احياء الكتب العربية ۱۹۵۳ء) اس کی نسبت دنیا کے تمام مذاہب میں پیشگوئیاں پائی جاتی ہیں اور کوئی نبی نہیں جس نے اس کی آمد کی خبر نہ دی ہو۔پس جس انسان کی اس قدر نبیوں نے خبر دی ہے اور اپنی امتوں کو اس کی آمد کا منتظر کیا ہے وہ کتنا بڑا انسان ہوگا اور کیسا مبارک ہوگا وہ شخص جس کو اس کا زمانہ میل جائے اور وہ اس کی برکتوں سے حصہ پالے۔اے بادشاہ! اللہ تعالیٰ کے مامور اور مرسل روز روز نہیں آیا کرتے اور خصوصاً اس قسم کے عالی شان مرسل کہ جس قسم کا مسیح موعود ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور کسی شخص کی نسبت اس قدر بشارات مروی نہیں جس قدر کہ اس کی نسبت۔پس اس سے بڑے آدمی کی آمد کی ہمیں امید نہیں ہو سکتی۔وہ نبی کریم کی امت کے لیے خاتم الخلفاء ہے اور