دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 397

دعوت الامیر — Page 355

(roo) دعوة الامير آپ کے پاس آجا تا تھا جن میں آپ اپنی روٹی تقسیم کر دیتے اور بسا اوقات بالکل ہی فاقہ کرتے اور بعض اوقات صرف چنے بھنوا کر چبالیتے اور آپ کی خلوت نشینی اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ کئی دفعہ ایسا ہوتا کہ گھر کے لوگ آپ کو کھانا بھیجنا تک بھول جاتے۔ایک دفعہ آپ اس خیال سے کہ والد صاحب کی نظروں سے علیحدہ ہو جاؤں ، تو شاید وہ مجھے دنیا کے کاموں میں پھنسانے کا خیال جانے دیں۔قادیان سے سیالکوٹ چلے گئے اور وہاں عارضی طور پر گزارے کے لیے آپ کو ملازمت بھی کرنی پڑی ، مگر یہ ملازمت آپ کی عبادت گزاری میں روک نہ تھی۔کیونکہ صرف سوال سے بچنے کے لیے آپ نے یہ ملازمت کی تھی، کوئی دنیاوی ترقی اس سے مقصود نہ تھی۔اس جگہ آپ کو پہلی دفعہ اس بات کا علم ہوا کہ اسلام نہایت نازک حالت میں ہے اور دوسرے مذاہب کے لوگ اُسے کھانے کے درپے ہیں اور اس کا ذریعہ یہ ہوا کہ سیالکوٹ میں پادریوں کا بڑا مرکز تھا۔وہ بازاروں اور کو چوں میں روزانہ اپنے مذہب کی اشاعت کرتے اور اسلام کے خلاف لوگوں کے دلوں میں شکوک ڈالتے تھے اور آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے تھے کہ کوئی شخص اُن کا مقابلہ نہیں کرتا اور یہ وہ زمانہ تھا کہ لوگ سمجھتے تھے کہ مسیحیت گورنمنٹ کا مذہب ہے اور ڈرتے تھے کہ اس کا مقابلہ کریں گے تو نقصان پہنچے گا اور سوائے شاذ و نادر کے اکثر علماء پادریوں کی باتوں کا رڈ کرنے سے خوف کھاتے تھے اور جو مقابلہ بھی کرتے۔وہ اُن کے حملوں کے آگے مغلوب ہو جاتے کیونکہ قرآن کریم کا علم ہی اُن کو حاصل نہ تھا، اس حالت کو دیکھ کر آپ نے پادریوں کا مقابلہ کرنے پر کمر ہمت باندھ لی اور خوب زور سے اُن سے بحث و مباحثہ شروع کیا اور پھر اس مقابلے کے دروازے کو آریوں اور دیگر اقوام کے واسطے بھی وسیع کر دیا۔کچھ عرصے کے بعد آپ کو آپ کے والد صاحب نے واپس بلالیا اور پھر یہ خیال