دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 318 of 397

دعوت الامیر — Page 318

(FIA) دعوة الامير فشاں پہاڑ۔اہل عرب کے لیے ایسے راستے نکلیں گے کہ اُن پر چلنا ان کے لیے مفید ہوگا اور اہل عرب اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوں گے۔گھروں کو اس طرح اُڑا دیا جائے گا جس طرح میر اذ کر وہاں سے مٹ گیا ہے۔اسی زلزلے کی مزید تشریح آپ نے اپنی ایک نظم میں فرمائی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے۔یہ زلزلہ ایسا سخت ہوگا کہ اس سے انسانوں اور دیہات اور کھیتوں پر تباہی آجائے گی۔ایک شخص بحالت برہنگی اس زلزلے کی زد میں آجائے تو اس سے یہ نہ ہو سکے گا کہ کپڑے پہن سکے۔مسافروں کو اس سے سخت تکلیف ہوگی اور بعض لوگ اس کے اثر سے دُور دُور تک بھٹکتے نکل جائیں گے۔زمین میں گڑھے پڑ جائیں گے اور خون کی نالیاں چلیں گی۔پہاڑوں کی ندیاں خون سے سرخ ہو جائیں گی۔تمام دنیا پر یہ آفت آوے گی اور کل انسان بڑے ہوں خواہ چھوٹے اور کل حکومتیں اس صدمہ سے کمزور ہو جائیں گی اور خصوصاً زار کی حالت بہت زار ہو جائے گی۔جانوروں تک پر اس کا اثر پڑے گا اور اُن کے حواس جاتے رہیں گے اور وہ اپنی بولیاں بھول جائیں گے۔اس کے علاوہ آپ کو الہام ہوا ، گشتیاں چلتی ہیں تا ہوں کشتیاں ، ( تذکرہ صفحہ ۶۱۵۔ایڈیشن چہارم) لنگر اُٹھا دو۔“ ( تذکرہ صفحہ ۵۵۰۔ایڈیشن چہارم ) اور یہ بھی آپ نے لکھا کہ یہ سب کچھ سولہ سال کے عرصہ میں ہوگا۔پہلے آپ کو ایک الہام ہوا تھا جس سے معلوم ہوتا تھا کہ زلزلہ آپ کی زندگی میں آئے گا مگر پھر الہاما یہ دعا سکھائی گئی کہ اے خدا مجھے یہ زلزلہ نہ دکھلا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ یہ جنگ سولہ سال کے عرصے کے اندر تو ہوئی لیکن آپ کی زندگی میں نہ ہوئی۔جیسا کہ میں پہلے لکھ چکا ہوں اس پیشگوئی میں زلزلے کا لفظ ہے لیکن اس سے مراد