دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 397

دعوت الامیر — Page 319

(ra) دعوة الامير جنگ عظیم تھی۔اب میں وہ دلائل بیان کرتا ہوں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس پیشگوئی میں جنگ عظیم کی ہی خبر دی گئی تھی (۱) زلزلے کا لفظ جنگ کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے بلکہ ہر آفت شدید کیلئے قرآن کریم میں بھی یہ لفظ جنگ عظیم کے معنوں میں استعمال ہوا ہے سورۃ احزاب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِذْ جَاءَ وَ كُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَإِذَ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبِ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ باللَّهِ الظُّبُوْنَا ٥ هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْنَا لَا شَدِيدًا ( الاحزاب آیت: ۱۱۔۱۲) یعنی یا دکر واس وقت کو جب دشمن تمہارے اوپر کی طرف سے بھی اور نیچے کی طرف سے بھی حملہ آور ہوا تھا، آنکھیں پھر گئی تھیں اور دل حلق میں آگئے تھے اور تم اللہ تعالیٰ کے متعلق قسم قسم کے گمان کرنے لگ گئے تھے۔اس موقعہ پر مومنوں کی آزمائش کی گئی تھی اور وہ ایک سخت آفت میں مبتلاء کر دیئے گئے تھے پس جبکہ زلزلے کا لفظ ہر آفت پر بولا جاسکتا ہے اور قرآن کریم میں جنگ کے لیے استعمال ہوا ہے تو پیشگوئی کے الفاظ متحمل ہیں، اگر اس پیشگوئی کے معنی زلزلے کی بجائے کچھ اور کئے جاویں۔(۲) جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس پیشگوئی کو شائع کیا تو اس وقت یہ نوٹ بھی لکھ دیا کہ گوظاہر الفاظ زلزلے ہی کی طرف اشارہ کرتے ہیں مگر ممکن ہے کہ یہ معمولی زلزلہ نہ ہو بلکہ کوئی اور شدید آفت ہو جو قیامت کا نظارہ دکھاوے جس کی نظیر کبھی اس زمانے نے نہ دیکھی ہو اور جانوں اور عمارتوں پر سخت تباہی آوے“۔(تذکرہ صفحہ ۵۴۰ ایڈ یشن چہارم) پس قبل از وقت ملہم کا ذہن بھی اس طرف گیا تھا کہ عجب نہیں کہ زلزلے سے مراد کوئی اور مصیبت ہو اور گومخالفین نے اس امر پر خاص زور دیا کہ آپ زلزلے کے لفظ کے کچھ اور معنے نہ قرار دیں مگر آپ نے متواتر ان کے اعتراضات کے جواب میں یہی لکھا کہ جبکہ الہی