دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 276 of 397

دعوت الامیر — Page 276

(124) دعوة الامير ہوگا حالانکہ یہ لوگ ملک کے لیے ایک پناہ ہوتے ہیں اور خدا ان کے ذریعے سے ملک کی بلائیں ٹال دیتا ہے۔انہوں نے بادشاہ کے سامنے یہ امر پیش کیا کہ اگر یہ شخص زندہ رہا تو لوگ جہاد کے خیال میں مست ہو جائیں گے مگر یہ نہ پیش کیا کہ یہ شخص جس سلسلے میں ہے اس کی یہ بھی تعلیم ہے کہ جس حکومت کے ماتحت رہو اس کی کامل فرمانبرداری کرو۔پس اُس کی باتوں کی اشاعت سے افغانستان کی خانہ جنگیاں اور آپس کے اختلاف دُور ہو کر سارے کا سارا ملک اپنے بادشاہ کا سچا جان شمار ہو جائے گا اور جہاں اس کا پسینہ بہے گا وہاں اپنا خون بہانے کے لیے تیار ہوگا اور یہ نہ بتایا کہ جس سلسلے سے یہ تعلق رکھتا ہے اس کی تعلیم یہ ہے کہ خفیہ سازشیں نہ کرو۔رشوتیں نہ لو۔جھوٹ نہ بولو اور منافقت نہ کرو اور نہ صرف تعلیم دی جاتی ہے بلکہ اس کی پابندی بھی کروائی جاتی ہے پس اگر اس کے خیالات کی اشاعت ہوئی تو ایک دم ملک کی حالت سدھر کر ہر طرح کی ترقیات شروع ہو جائیں گی۔اسی طرح انہوں نے یہ نہ بتایا کہ یہ اس جہاد کا منکر ہے کہ غیر اقوام پر بلا اُن کی طرف سے مذہبی دست اندازی کے حملہ کیا جائے اور اسلام کو بدنام کیا جائے۔نہ کہ اُس حقیقی دفاعی جہاد کا جو خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور نہ اُن سیاسی جنگوں کا جو ایک قوم اپنی ہستی کے قیام کے لیے دوسری اقوام سے کرتی ہے۔اس کا تو صرف یہ عقیدہ ہے کہ بغیر اس کے کہ غیر اقوام کی طرف سے مذہبی دست اندازی ہو ان کے ساتھ جہاد کے نام پر جنگ نہیں کرنی چاہئیے تا اسلام پر حرف نہ آئے۔سیاسی فوائد کی حفاظت کے لیے اگر جنگ کی ضرورت پیش آئے تو بے شک جنگ کریں مگر اس کا نام جہاد نہ رکھیں کیونکہ وہ فتح جس کے لیے اسلام کی نیک نامی کو قربان کیا جائے اس شکست سے بدتر ہے جس میں اسلام کی عزت کی حفاظت کر لی گئی ہو۔غرض بلا وجہ اور امیر حبیب اللہ خان صاحب کو غلط واقعات بتا کر سید عبداللطیف