دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 232 of 397

دعوت الامیر — Page 232

۲۳۲ دعوة الامير سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے۔یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے کی باتوں کو جھٹلا دے۔بات یہ ہے کہ ظالم کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔اس آیت میں بتایا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ پر افتراء کرنے والا کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا اسی طرح اللہ کی طرف سے آنے والے کی باتوں کو جھٹلانے والا بھی کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔اس طرح فرماتا ہے وَلَقَدِ اسْتَهْزِئُ بِرُسُلٍ مِنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُوْا مِنْهُم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِعُوْنَ قُلْ سِيرُوا فِى الْأَرْضِ ثُمَّ انظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ (الانعام: ۱۱-۱۲) اور تجھ سے پہلے جو رسول گزرے ہیں اُن کے ساتھ بھی ہنسی اور ٹھٹھا کیا گیا، مگر آخر یہ ہوا کہ وہ لوگ جو اُن میں خاص طور پر ٹھٹھا کرنے والے تھے اُن کو اُن چیزوں نے گھیر لیا جن سے وہ ہنسی کرتے تھے تو کہہ دے کہ جاؤ زمین میں خوب پھر واور دیکھو کہ خدا کے نبیوں کو جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا ہے اس مضمون کی آیات اس کثرت سے قرآن کریم میں پائی جاتی ہیں کہ زیادہ زور اس پر دینے کی ضرورت نہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ اس کے ماموروں اور مُرسلوں کا مقابلہ کرنے والے ہلاک کئے جاتے ہیں اور دوسروں کے لئے موجب عبرت ہوتے ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اسی مضمون کا الہام ہوا تھا کہ رانی مُهِينٌ مَنْ اَرَادَاهَانَتگ ( تذکره صفحه ۳۴- ایڈیشن چہارم) میں اس کو ذلیل کروں گا جو تیری اہانت کا ارادہ بھی کرے گا اور اس سُنت مستمرہ اور اس وعدہ خاص کے مطابق حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے دشمنوں کے ساتھ وہ سلوک ہوا ہے کہ دیکھنے والے دنگ اور سننے والے حیران ہیں۔میں ایک بڑے مولوی صاحب کا ذکر کر چکا ہوں جو فرقہ اہل حدیث کے لیڈر تھے