دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 397

دعوت الامیر — Page 231

(rri) ساتویں دلیل دشمنوں کی ہلاکت دعوة الامير ساتویں دلیل آپ کے دعوے کی صداقت کی کہ وہ بھی بے شمار دلائل کا مجموعہ ہے یہ ہے کہ آپ کے دشمنوں کو اللہ تعالیٰ نے بلا استثناء اور بلا انسانی ہاتھ کی مدد کے ہلاک کیا۔ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے پیاروں کو جو تکلیف دے ہم اس کا مقابلہ کرتے ہیں اور اس کو سزا دیتے ہیں اور جو ہمارے کاموں میں روک بنے اسکو اپنے راستے سے ہٹا دیتے ہیں پس اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور آتے ہیں تو عقل چاہتی ہے کہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ اپنی غیرت بھی دکھائے اور جو اُن کے راستے میں روک ہوں اُن کو اُن کے راستے سے دُور کر دے اور جو اُن کی ذلّت چاہیں ان کو ذلیل کر دے اور جو ان کی ناکامی کی کوشش کریں اُن کو نا کامی کا بھی منہ دکھائے۔اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کا تعلق اور اس کی محبت بے ثبوت رہے اور ماموروں کے دعوے مشتبہ ہو جائیں۔کیونکہ دنیا کے بادشاہ اور حاکم جن کی طاقتیں محدود ہوتی ہیں وہ بھی اپنے دوستوں اور اپنے کارکنوں کے راستے میں روک بننے والوں کو سزا دیتے ہیں اور ان سے عداوت رکھنے والوں سے مؤاخذہ کرتے ہیں۔قرآن کریم سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ ہماری عقل کا مطالبہ بالکل درست ہے اور اللہ تعالیٰ تصدیق فرماتا ہے کہ اس کی طرف سے آنے والوں کے دشمنوں اور معاندوں کی ضرور گرفت ہونی چاہئے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِايَتِهِ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّلِمُونَ (الانعام : ۲۲) یعنی اس سے زیادہ ظالم کون ہو