دعوت الامیر — Page 8
دعوة الامير ۶۔اسی طرح ہم یقین رکھتے ہیں کہ جب کبھی بھی دنیا تاریکی سے بھر گئی ہے اور لوگ فسق و فجور میں مبتلا ہو گئے ہیں اور بلا آسمانی مدد کے شیطان کے پنجے سے رہائی پانا اُن کے لئے مشکل ہو گیا ہے اللہ تعالیٰ اپنی شفقت کا ملہ اور رحم بے اندازہ کے سبب اپنے نیک اور پاک اور مخلص بندوں میں سے بعض کو منتخب کر کے دنیا کی راہنمائی کے لئے بھیجتا رہا ہے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَانْ مَنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيزه(سورة فاطرآيت : ۲۵) یعنی کوئی قوم نہیں ہے جس میں ہماری طرف سے نبی نہ آچکا ہو اور یہ بندے اپنے پاکیزہ عمل اور بے عیب روسیہ سے لوگوں کے لئے خضر راہ بنتے رہے ہیں اور ان کے ذریعے سے وہ اپنی مرضی سے دنیا کو آگاہ کرتا رہا ہے۔جن لوگوں نے ان سے منہ موڑ اوہ ہلاکت کو سونپے گئے اور جنہوں نے ان سے پیار کیا وہ خدا کے پیارے ہو گئے اور برکتوں کے دروازے ان کے لئے کھولے گئے اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ان پر نازل ہوئیں اور اپنے سے بعد کو آنے والوں کے لئے وہ سردار مقرر کئے گئے اور دونوں جہانوں کی بہتری ان کے لئے مقدر کی گئی۔اور ہم یہ بھی یقین کرتے ہیں کہ یہ خدا کے فرستادے جودنیا کو بدی کی ظلمت سے نکال کر نیکی کی روشنی کی طرف لاتے رہے ہیں مختلف مدارج اور مختلف مقامات پر فائز تھے اور ان سب کے سردار حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے سید ولد آدم قرار دیا اور كَافَةُ لِلنَّاسِ مبعوث فرمایا اور جن پر اس نے تمام علوم کا ملہ ظاہر کئے اور جن کی اُس نے اس رُعب و شوکت سے مدد کی کہ بڑے بڑے جابر بادشاہ ان کے نام کو سنکر تھر ااُٹھتے تھے اور جن کے لئے اس