دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 397

دعوت الامیر — Page 7

(<) دعوة الامير کوئی بندہ نہیں لاسکتا وہ علوم کے بے شمار خزانے اپنے ساتھ لاتا ہے اور ایک کان کی طرح ہوتا ہے جسے جس قدر کھو دو اسی قدر اس میں سے قیمتی جواہرات نکلتے چلے آتے ہیں بلکہ کانوں سے بھی بڑھ کر۔کیونکہ اُن کے خزینے ختم ہو جاتے ہیں مگر اس کلام کے معارف ختم نہیں ہوتے۔یہ کلام ایک سمندر کی طرح ہوتا ہے جس کی سطح پر عنبر تیرتا پھرتا ہے اور جس کی تہ پر موتی بچھے ہوئے ہوتے ہیں۔جو اس کے ظاہر پر نظر کرتا ہے اس کی خوشبو کی مہک سے اپنے دماغ کو معطر پاتا ہے اور جو اس کے اندر غوطہ لگاتا ہے دولتِ علم وعرفان سے مالا مال ہو جاتا ہے۔یہ کلام کئی قسم کا ہوتاہے کبھی احکام وشرائع پر مشتمل ہوتا ہے کبھی مواعظ و نصائح پر کبھی اس کے ذریعے سے علم غیب کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور کبھی علم روحانی کے دفینے ظاہر کئے جاتے ہیں۔کبھی اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اپنی خوشنودی کا اظہار کرتا ہے۔اور کبھی اپنی ناپسندیدگی کا علم دیتا ہے۔کبھی پیار اور محبت کی باتوں سے اس کے دل کو خوش کرتا ہے، کبھی زجر و توبیخ سے اُسے اس کے فرض کی طرف متوجہ کرتا ہے کبھی اخلاق فاضلہ کے بار یک راز کھولتا ہے۔کبھی مخفی بدیوں کا علم دیتا ہے۔غرض ہم ایمان رکھتے ہیں کہ خدا اپنے بندوں سے کلام کرتا ہے اور وہ کلام مختلف حالات اور مختلف انسانوں کے مطابق مختلف مدارج کا ہوتا ہے اور مختلف صورتوں میں نازل ہوتا ہے اور تمام کلاموں سے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے کئے ہیں قرآن کریم اعلیٰ اور افضل اور اکمل ہے اور اس میں جو شریعت نازل ہوئی ہے اور جو ہدایت دی گئی ہے وہ ہمیشہ کے لئے ہے۔کوئی آئندہ کلام اسے منسوخ نہیں کرے گا۔