دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 397

دعوت الامیر — Page 92

۹۲ دعوة الامير جن میں بظاہر تو مہدی کے زمانے کی علامات بتائی گئی ہیں ،مگر در حقیقت بتایا یہ گیا ہے کہ عباسیوں کی تائید میں خراسان میں جو بغاوتیں ہوئی تھیں، وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تھیں اور اس کی مرضی کے مطابق تھیں۔ان احادیث کا بطلان واقعات نے آپ ہی ثابت کر دیا ہے۔اس زمانے پر ایک ہزار سال سے زائد گزر گئے، مگر ان علامات کے بموجب کوئی مهدی ظاہر نہ ہوا، اسی طرح اور بہت سی روایات ہیں جن میں علامات مہدی کو پچھلے واقعات کے ساتھ اس طرح خلط کر کے بیان کیا گیا ہے کہ جب تک ان واقعات کو جو بطور علامات مہدی بیان کئے گئے ہیں، لیکن ہیں زمانہ گزشتہ کئے الگ نہ کر دیا جائے حقیقت حال سے آگا ہی نہیں ہو سکتی ، ان لوگوں نے جو تاریخ اسلام سے ناواقف تھے، ان احادیث سے بہت دھوکا کھایا ہے اور آئندہ زمانے میں بعض ایسے امور کے وقوع کے منتظر رہے ہیں جو ان احادیث کے بنائے جانے سے بھی پہلے واقعہ ہو چکے ہیں اور ان کو علامات مہدی میں شامل کرنے کی وجہ صرف اپنے اپنے فرقے کی سچائی ثابت کرناتھی۔پس علامات مہدی پر غور کرتے ہوئے ہمارے لئے ضروری ہے کہ ان علامات کو الگ کر لیں جو کسی واقعہ کی طرف اشارہ نہیں کرتیں ، تاکہ اس گڑھے میں گرنے سے بچ جاویں جو بعض خود غرض لوگوں نے اپنی اغراض کو پورا کرنے کے لئے کھودا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر خدا تعالیٰ کی بے انتہاء رحمتیں اور درؤ دہوں ، آپ نے مسیح موعود اور مہدی معہود کی علامات بیان کرتے وقت ایک ایسے طریق کو مد نظر رکھا ہے جس کو یادرکھتے ہوئے انسان بڑی آسانی سے دھوکا دینے والے کے دھو کے سے بیچ جاتا ہے اور وہ یہ کہ آپ نے مسیح و مہدی کے زمانے کے متعلق جو علامات بتائی ہیں ان کو زنجیر کے طور پر بیان کیا ہے جس کی وجہ سے ملاوٹ کرنے والے کی ملاوٹ کا پورا پتہ لگ