دعوت الامیر — Page 91
(91) دعوة الامير نے اپنی تحقیق سے نہیں مانا، ان کے لئے کسی راستباز کا ماننا خواہ وہ کتنے ہی نشان اپنے ساتھ کیوں نہ رکھتا ہو ، نہایت مشکل ہے۔ان لوگوں کا اپنا ایمان در حقیقت کوئی وجود نہیں رکھتا، ان کا ایمان وہی ہوتا ہے جو ان کے علماء یا مولوی کہہ دیں یا جو باپ دادا کی روایات ان کے کانوں تک پہنچی ہوں ، پس چونکہ انہوں نے کسی ایک رسول کو بھی اس کی اپنی شکل میں نہیں دیکھا ہوتا۔رسول کا پہچاننا ان کے لئے ناممکن ہے اور اسی وقت یہ کسی رسول کو دیکھ سکتے ہیں جبکہ پہلے اپنی نظر کی اصلاح آسمانی ہدایت کے سرمہ سے کرلیں اور انسانی اقوال اور رسوم کی تقلید کے خمار کو اپنے سر سے دور کر دیں۔اس مختصر تمہید کے بعد میں ان نشانات کو بیان کرتا ہوں جو مسیح موعود کے زمانے کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائے ہیں۔میرے نزدیک اگر کوئی ان نشانات پر بے تعصبی سے غور کریگا تو اس کے لئے مسیح موعود کے زمانے کی تعیین کر لینا ذرا بھی مشکل نہ رہے گا مگر پیشتر اس کے کہ ان نشانات پر غور کیا جائے اس امر کا سمجھ لینا ضروری ہے کہ امت اسلامیہ کے اندر تفرقہ رونما ہونے کے زمانے میں بہت سے لوگوں نے اپنے مقاصد کے حصول کی غرض سے جھوٹی احادیث بھی بہت سی بنا کر شائع کر دی ہیں جن سے ان کی غرض یہ ہے کہ کسی طرح ہمارا فرقہ سچا ثابت ہو جائے مثلاً بہت سی احادیث ایسی ملیں گی جن میں مہدی کے زمانے کی خبر دی گئی ہے مگر ان کے الفاظ اس قسم کے ہیں جن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ ماضی کے کسی اختلاف کا فیصلہ اپنے حق میں کرانا ان سے مقصود ہے۔ایسی روایات میں سے گو بعض سچی بھی ہوں مگر پھر بھی ان کے متعلق محقق کو بہت احتیاط کی ضرورت ہے اور کم سے کم ان احادیث کی تائید یا تردید پر اس کے دعوے کی بنیاد نہیں ہونی چاہئے۔مثلاً بہت سی احادیث بنوعباس کے زمانے کی اس قسم کی ملتی ہیں