دعوت الامیر — Page 93
(ar) دعوة الامير جاتا ہے اگر آپ اس قسم کی مثلاً علامت بتاتے کہ اس کا یہ نام ہوگا اور فلاں نام اس کے باپ کا ہوگا تو بہت سے لوگ اس نام کے دعوے کرنے کے لئے تیار ہو جاتے۔پس آپ نے اس قسم کی علامتیں بیان کرنے کے بجائے جن کا پورا کرنا انسانوں کے اختیار میں ہے اس قسم کی علامتیں بیان فرمائی ہیں جن کا پورا کرنا نہ صرف یہ کہ انسان کے اختیار میں نہیں بلکہ وہ سینکڑوں سال کے تغیرات کے بغیر ہو ہی نہیں سکتیں۔پس کوئی انسان بلکہ انسانوں کی ایک جماعت نسلاً بعد نسل کوشش کر کے بھی ان حالات کے پیدا کرنے پر قادر نہیں ہوسکتی۔دوسری بات علامات مہدی کے بیان کرنے میں یہ مد نظر رکھی گئی ہے کہ بعض علامتیں ان میں ایسی بیان کر دی گئی ہیں جن کی نسبت یہ بیان فرما دیا گیا ہے کہ یہ علامات سوائے مہدی کے زمانے کے اور کسی وقت اس کی آمد سے پہلے ظاہر نہ ہوں گی۔پس ان اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے جب وہ زمانہ ہمیں معلوم ہو جائے جس کے ساتھ مسیح موعود اور مہدی معہود کا کام متعلق ہے اور جب وہ علامات پوری ہوجائیں جن کی نسبت بتایا گیا ہے کہ سوائے مہدی کے زمانے کے کسی وقت ان کا ظہور نہیں ہوسکتا اور جب زمین و آسمان کے بہت سے تغیرات جن کا پیدا کرنا انسان کے اختیار میں نہیں اور وہ بطور علامات مہدی کے بیان کئے گئے ہیں ظاہر ہو جائیں تو اس وقت کو مہدی و مسیح کا زمانہ سمجھ لینے میں ہمارے لئے کوئی بھی مشکل نہیں۔اس وقت اگر بعض علامات ایسی معلوم ہوں جو اس وقت تک پوری نہیں ہوئیں تو ہمیں دو باتوں میں سے ایک کو تسلیم کرنا ہوگا ، یا یہ کہ وہ علامات جو پوری نہیں ہو ئیں ، علامات مہدی تھیں ہی نہیں بلکہ بعض بے رحم لوگوں کی دست اندازی کے سبب سے ان کو علامات مہدی میں شامل کر دیا گیا تھا یا یہ کہ ان کے معنی سمجھنے میں ہم سے غلطی ہوگئی ہے درحقیقت وہ تعبیر طلب تھیں۔