دعوت الی اللہ — Page 13
۱۵ اور اس کا نتیجہ بیزاری ہو۔ایسے مواقع پر خاموش رہو۔یہاں تک کہ لوگ تم سے خواہش کریں۔تو ان کو نماد۔تاکہ تمہارا وعظ رغبت سے سنیں - ( مشكاة المصابيح ) ر مخاطب کی نفسیات:۔دوسری اہم بات جیسے ایک داعی کو ہمیشہ ہمیش مد نظر رکھنا چاہیے۔وہ مخاطب کی استعداد اور نفسی کیفیات ہیں۔مشوا عام مخاطب کی ذہنی استعداد کو ملحوظ نہ رکھتے ہوئے منطقی استدلیاں اور فلسفیانہ بخشیں شروع کر دی جائیں۔یا کسی دانشور سے گفتگو کرتے ہوئے بے رنگ ، بے ڈھب انداز گفتگو اختیار کیا جائے۔بلکہ لوگوں سے ان کی ذہنی استعداد کے مطابق بات کی جائے۔دعوت حق کے بعض شدید تقاضے ہوتے ہیں اور بعض سہیں۔داغی کو آغاز ہی میں وہ تمام باتیں بیان نہیں کرنی چاہئیں جن سے اکتاہٹ اور تنفر پیدا ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : - يَسرُوا وَلا تَحَسرُوا وَبَشِّرُوا وَلا تَنفِرُوا - د بخاری کتاب العلم ترجمہ :۔یعنی آسانی پیدا کرو۔تنگی پیدا نہ کرو۔اور لوگوں کو ہمیشہ خوشخبری دیا کرو۔اور نفرت پیدا کرنے والی باتیں نہ کیا کرو۔پھر مخاطب کی کمزوریوں کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے۔داعی کو کسی حال میں بھی اپنے مخاطب کے اندر حمیت و جاہلیت کے بھڑکنے کا موقع نہیں پیدا ہونے دینا چاہیئے۔مخاطب کے معتقدات کے بارے میں محتاط اندا نیہ بیان اختیار کرنا چاہیئے۔کیونکہ جذباتی وابستگی کے باعث بعض اوقات وہ