دعوت الی اللہ

by Other Authors

Page 14 of 27

دعوت الی اللہ — Page 14

14 بالکل غیر متوازن ہو سکتا ہے۔اسی امر کی طرف اللہ تعالیٰ اس آیت کو عید میں ہماری توجہ پھیرنا چاہتا ہے۔وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا الله عدوا بغير علمه (الانعام : ۱۰۸) ترجمہ :۔اور تم ان کو گالی نہ دو جن کو یہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں جس کے نتیجہ میں وہ ہی علمی کے باعث اللہ تعالیٰ کو گالیاں دیتا شروع کر دیں۔اس ہدایت کا مقصد بھی یہی ہے کہ داعی حق کو ان تمام باتوں سے اعراض کرنا چاہیئے جو عصبیت اور جاہلیت کو بھڑکانے والی اور مخاراب کو عناد و اختلاف کی راہ پر ڈال دینے والی ہوں۔اسی طرح مخاطب کی نفسیات کا لحاظ رکھتے ہوئے اس امر کا بھی خیال رکھا جائے کہ مخاطب کے معاشرتی و سیاسی مرتبہ کو بھی مد نظر رکھا جائے۔کیونکہ اس کا غلط پندار بسا اوقات اُسے حق بات کے سننے سے روک دیتا ہے۔حضرت موسیٰ و ہارون کو اسی پہلو سے ہدایت کی گئی کہ : اِذْهَبَا إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى ، فَقَوْلَا لَهُ قَوْلاً تَيْنا تَعَلَّهُ يَتَذَكَرُوا وَيَخْشَى (طه : ۳۴) ترجمہ :۔(اسے موسی اور ہارون، فرعون کے پاس جاؤ۔کیونکہ وہ سرکش ہو گیا ہے اور اُس سے نرمی سے بات کرنا تاکہ وہ نصیحت حاصل کر سے۔یا خدا کا خوف محسوس کر ہے۔۳- تدریج : حکمت عملی کے ضمن میں ایک اور حقیقت جس کو مدنظر رکھنا ضروری ہے وہ " تدریجو " ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے