دعوت الی اللہ — Page 9
حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ اسیح الثانی کے ان ارشادات سے بھی کی اہمیت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔آپ فرماتے ہیں :- ہمت کرو اور بڑھتے چلے جاؤ۔اور دنیا کے کناروں تک جا کہ خُدا کے نام کو پھیلا دو۔اس راستہ میں تمہیں جو بھی قربانی کرنی پڑ سے۔اس سے مت گھبراؤ۔اور نہ ڈکو۔اگر تمہیں اس راہ میں اپنی عزیز سے عزیز چیز بھی قربان کرنی پڑے تو کرو۔اور صرف ایک مقصد سے کر کھڑے ہو جاؤ۔اور اس عرفان کے خزانے کو دنیا میں پہنچاؤ جس کے لئے احادیث میں آیا ہے کہ مسیح موعود خزا نے تقسیم کر ے گا۔مگر لوگ لینگے نہیں مسیح موعود نے تمہیں قرآن کے خزانے دیئے ہیں۔ان کو تمام دنیا میں پہنچا دو۔اور پھیلا دو د خطبات محمود جلد اول ص ) حضرت خلیفہ المسیح الرابع ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : اوّل یہ کہ () کوئی طوعی چندہ نہیں ہے۔کوئی فضل نہیں ہے۔کہ نہ بھی ادا کریں تو آپ کی روحانی شخصیت مکمل ہو جائے گی۔ددعوت الی الله فریضہ ہے۔اور ایسی شدت کے ساتھ خدا تعالیٰ کا حکم ہے اور آنحضرت کو مخاطب کر کے فرماتا ہے۔اگر نہ کی تو تو نے رسالت کو ہی ضائع کر دیا۔آپ کی اُمت بھی جواب دہ ہے۔ہم میں سے ہر ایک