دعوۃ الی اللہ کی اہمیت اور ضرورت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 8 of 25

دعوۃ الی اللہ کی اہمیت اور ضرورت — Page 8

نہ ہم اس بات میں خوش ہیں کہ فلاں فرقے نے فلاں فرقے کو کافر کہا ہے۔ایسے سوال کرنے والوں یا مخیالات رکھنے والوں کو بھی سوچنا چاہئے کہ اگر کسی پر کفر کا فتوی لگا دیا تو اس سے اسلام کی کیا خدمت ہوگی۔اسلام کی خدمت تو یہ ہے کہ چاہے رافضی ہوں یا کوئی اور ہو، انہیں ان کے غلط نظریات سے دلائل سے قائل کر کے حقیقی مسلمان بنایا جائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق مسلمان وہ ہے جس کی زبان سے اور ہاتھ سے مسلمان بلکہ ہر انسان محفوظ رہے۔(سنن الترمذی کتاب الایمان باب ما جاء في ان المسلم۔۔۔حدیث نمبر (2627) پس ہمارا کام ہے کہ اپنی زبان سے بھی اور اپنے ہاتھ سے بھی دوسروں کو نقصان پہنچانے سے ہمیشہ بچتے رہیں۔پھر حکمت میں یہ بات بھی ہے کہ ہر بات موقع اور محل کے حساب سے کی جائے اور ایسی باتیں نہ کی جائیں جو دشمن کو برانگیختہ کر دیں، اسے غصہ دلا دیں اور بجائے اس کے کہ تبلیغ امن قائم کرنے کا ذریعہ ہو اس سے فساد پھیلے اور یوں مذہب پر اعتراض کرنے والوں کو خود ہم اس اعتراض کا موقع مہیا کر دیں کہ مذہب تو ہے ہی فتنہ وفساد پھیلانے والا۔پھر یہ بھی ضروری ہے کہ تبلیغ حقائق اور سچائی پر مبنی ہو۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم سچے دین کی طرف بلا رہے ہیں تو بیشک حقائق سے ہٹ کر بات کر دیں۔یہ غلط چیز ہے۔جب ہدایت دینا خدا تعالیٰ کا کام ہے جیسا کہ اس نے فرمایا تو پھر اس سچائی کو بیان کریں جس کوخدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔یہ نہ ہو کہ دوسروں کو ہدایت دیتے دیتے خود جھوٹ کی برائی میں مبتلا ہو جا ئیں۔بعض لوگ واقعات میں مبالغہ آمیزی کر جاتے ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک واقعہ بیان کیا کہ ایک دوست تھے 8