دعوۃ الی اللہ کی اہمیت اور ضرورت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 9 of 25

دعوۃ الی اللہ کی اہمیت اور ضرورت — Page 9

وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت بیان کرنے اور آپ کے نشانات کے بارے میں بتانے میں بھی مبالغہ کر جاتے تھے۔ایک دن وہ حضرت مصلح موعود کے ساتھ تھے تو ایک عرب کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ خدا تعالیٰ کی تائیدات اور نشانات کو بیان کرتے ہوئے لیکھرام کے قتل کا واقعہ اس طرح بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیشگوئی فرمائی کہ فلاں دن ، وقت لیکھرام قتل ہو جائے گا اور کوئی اسے بچانہ سکے گا اور پھر اس دن اور خاص اسی معین وقت میں لیکھرام کو خاص حفاظت میں رکھا گیا۔اس کے گھر کے گرد پولیس نے پہرہ لگا دیا۔لوگ گھر کے باہر جمع ہو گئے کہ کوئی اندر نہ جاسکے۔گھر کے اندر بھی اس کی حفاظت کا انتظام کیا گیا۔لیکن اس سب کے باوجود ایک فرشتہ چھت پھاڑ کر آیا اور اس کے پیٹ میں چاقو گھونپ کے چلا گیا اور اسے قتل کر دیا اور کسی کو نظر نہیں آیا۔تو وہ عرب اس بات کوسن کے اللہ اکبر اور سبحان اللہ ماشاء اللہ کہتا رہا۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ میں نے اسے کہا کہ تم جھوٹ اور مبالغے سے کام لے رہے ہو۔اس کو حقیقت بتاؤ کہ پیشگوئی کے لئے گودن مقرر تھا کہ عید کے دوسرے دن ، لیکن چھ سال کا عرصہ تھا۔یہ نہیں تھا کہ اگلے مہینے یا اگلے سال یا فلاں دن ، اور وہ پوری ہوگئی۔ورنہ جس طرح معین کر کے تم بتا رہے ہو یہ غلط ہے۔میں پھر اسے بتانے لگا ہوں کہ تم غلط کہہ رہے ہو۔اصل بات، اصلیت یہ ہے۔اس پر وہ دوست ہاتھ جوڑنے لگے کہ نہیں، اب میری بے عزتی نہ کروائیں۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں اگر اس وقت اس کی اصلاح نہ کی جاتی جو پھر شاید اس کے ذریعہ سے ہی کروادی تو پھر آگے عرب نے جب بیان کرنا تھا تو اس نے اس میں مزید مبالغہ کرنا تھا اور کہنا تھا کہ ایسا معجزہ ہوا، صداقت کا ایسا نشان ظاہر ہوا کہ زمین پھٹی اور اس میں سے فرشتے نکل آئے اور 9