دعوۃ الی اللہ کی اہمیت اور ضرورت — Page 7
میں نے اسے یہی کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہی فرمایا ہے کہ مسلمان کو کافر کہنے والے پر اس کا کفر الٹ جاتا ہے۔(صحیح البخاری کتاب الادب باب ما ينهى من السباب و اللعن حدیث نمبر 6045) لیکن بار باران کا زور تھا کہ نہیں تم کیا کہتے ہو۔میں نے انہیں کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کے بعد اور آپ کے فیصلے کے بعد میں کون ہوتا ہوں اور میرے کہنے کی کیا ضرورت ہے۔تو بہر حال تبلیغ کے لئے یہ ضروری ہے کہ حکمت سے جواب ہو اور برداشت اور ہمدردی کا مظاہرہ ہو۔برداشت بھی تب ہی پیدا ہوتی ہے جب ہمدردی ہو۔اور حقیقی برداشت یہی ہے کہ میں نے کسی بڑی بات کے حصول کے لئے چھوٹی چھوٹی باتوں کو برداشت کرنا ہے۔اور سب سے بڑی بات اس وقت خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچانا ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی بات بھی ایسی نہیں جو رکھی جا سکے۔اس کے مقابلے میں ہر بات چھوٹی ہے اور صبر کا مظاہرہ کرنا ہے۔ہمیں تو ان لوگوں سے بھی ہمدردی ہے جو نام نہاد علماء کے غلط نظریات کی وجہ سے، ان کے بہکاوے میں آکر کبار صحابہ پر الزام لگاتے ہیں یا ان کے بارے میں غلط باتیں کرتے ہیں اور اس ہمدردی کی وجہ سے ہم نے انہیں صحیح راستہ دکھانا ہے۔انہیں ان ناجائز باتوں سے عقل اور پیار اور محبت سے روکنا ہے۔اور یہ کام صبر اور برداشت والا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ فرمایا تھا کہ ایک کلمہ گو کو کافر کہنے والے پر اس کے الفاظ الٹ جاتے ہیں تو یہ تو نہیں فرمایا تھا کہ ان کی گردنیں اڑا دو۔ہرگز نہیں۔ہم نے تو کافروں اور غیر مذاہب والوں کو بھی تبلیغ کرنی ہے اور انہیں اسلام کی خوبیوں سے آشنا کروانا ہے۔پس ہمیں نہ اپنے طور پر کسی پر کفر کے فتوے لگانے کی ضرورت ہے اور 7