دعوۃ الی اللہ کی اہمیت اور ضرورت — Page 5
دعوت الی اللہ کرنے والوں کی اپنی حالت کیا ہونی چاہئے۔اس پہلی آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت کے ساتھ اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دے اور ان سے ایسی دلیل کے ساتھ بحث کر جو بہترین ہو۔یقینا تیرا رب ہی اسے جو اس کے راستے سے بھٹک چکا ہو سب سے زیادہ جانتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کا بھی سب سے زیادہ علم رکھتا ہے۔اور دوسری آیت یہ ہے کہ اور بات کہنے میں اس سے بہتر کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک اعمال بجالائے اور کہے کہ میں یقیناً کامل فرمانبرداروں میں سے ہوں۔پس پہلی آیت میں فرمایا کہ تبلیغ حکمت سے کرو۔حکمت کیا ہے؟ ہم عام معنی عقل و دانائی کے لیتے ہیں۔سوچ سمجھ کے بات کرو۔اس کے اور بھی معنی ہیں جیسے علم۔جس میں سائنس کا علم بھی ہے، دوسرے علم بھی ہیں۔پھر انصاف اور برابری یہ بھی حکمت ہے۔دوسروں کی غلطیوں کو دیکھ کر برداشت، حوصلہ اور ہمدردی دکھانا۔اپنی بات میں پختہ ہونا۔جو بھی بات کریں اس پہ پختہ یقین ہونا چاہئے۔موقع اور محل کے لحاظ سے سچائی کا اظہار کرنا۔پس اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے والوں کو مختلف لوگوں کے طبائع کے لحاظ سے مختلف طریقوں سے تبلیغ کرنی ہوگی۔ہر ایک کو ایک ہی طریقے سے پیغام نہیں پہنچایا جا سکتا۔کوئی پڑھا لکھا ہے۔کوئی اپنے مذہب کے معاملے میں سخت ہے۔کوئی سائنس کی دلیل چاہتا ہے۔کوئی جذباتی طریق سے متاثر ہوتا ہے۔کوئی اخلاق دیکھ کر متاثر ہوتا ہے۔غرض کہ مختلف طریقے ہیں۔پس جو علم اور سائنس سے متاثر ہونے والا ہے اسے ہمیں دلائل 5