دعوۃ الی اللہ کی اہمیت اور ضرورت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 4 of 25

دعوۃ الی اللہ کی اہمیت اور ضرورت — Page 4

ہے۔حقیقی مذہب کے ہدایت کے راستوں پر چلانا خدا تعالیٰ کا کام ہے۔لیکن خدا تعالیٰ نے ہم پر کچھ ذمہ داریاں بھی ڈالی ہیں۔ہمیں بھی ان ہدایت کے راستوں کی طرف دنیا کی رہنمائی کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔پس ایک تو امن اور محبت کے پلیٹس (leaflets) کے ذریعہ آپ لوگوں نے بڑے وسیع پیمانے پر اسلام کی حقیقی تعلیم پہنچائی ہے لیکن اب اس سے آگے دنیا کو یہ بھی بتانا ہے اور جرمنی بھی اس میں شامل ہے کہ تمہارا حقیقی نجات دہندہ جو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں بھیجا ہے وہ حضرت خاتم الانبیاءمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اللہ تعالیٰ کے آپ سے کئے گئے وعدے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی تعلیم کو جاری رکھنے کے لئے مسیح موعود اور مہدی موعود کو بھیجا ہے اور اب اپنی دنیاو عاقبت سنوارنے کے لئے اس سے جڑنے کی کوشش کرو۔پس جس طرح لاکھوں تک امن کے پیغام کے لیفلیٹس پہنچے اب اسی طرح لاکھوں اور کروڑوں تک اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے کے لئے لیفلیٹس بھی پہنچنے چاہئیں۔ہو سکتا ہے اس سے اس طبقے میں بعض ایسے لوگ بھی پیدا ہو جائیں جو اس وقت ہمارے حق میں بولتے ہیں لیکن بعد میں خلاف ہونے لگ جائیں۔لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔یہاں کی اکثریت پڑھی لکھی ہے اور ہمارے اس پیغام کو بھی سمجھتی ہے کہ دین کے معاملہ میں کوئی جبر نہیں۔ہم نے کسی سے لڑائی نہیں کرنی۔ہم جس بات کو اچھا سمجھتے ہیں اس کو اپنے دوستوں تک پہنچانا ہمارا کام ہے اور جیسا کہ میں نے کہا یہ ایک ذمہ داری ہے جو ہم پر ڈالی گئی ہے۔یہ آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں ان میں دعوت الی اللہ کی طرف خدا تعالیٰ نے توجہ دلائی ہے اور پھر طریق بھی بتائے کہ کس طرح دعوت الی اللہ کرنی ہے۔اور پھر یہ بھی کہ 4