دعوۃ الی اللہ کی اہمیت اور ضرورت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 6 of 25

دعوۃ الی اللہ کی اہمیت اور ضرورت — Page 6

اور علم کی رو سے قائل کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔جذبات وہاں کام نہیں آئیں گے۔پس اس کے لئے اپنے علم میں بھی اضافہ کرنا چاہئے۔جب انصاف اور برابری کو سامنے رکھتے ہوئے تبلیغ کرنی ہے تو پھر یہ بھی دیکھنا ہے که ایسی باتیں نہ ہوں جن میں عدل نہ ہو اور ایسے اعتراض نہ ہوں جو مخالف موقع پا کر ہمیں لوٹائے۔غیر مذہب والے ایسے ہی اعتراض اسلام پر کرتے رہے اور کرتے ہیں جو اُن پر بھی الٹ جاتے ہیں۔یہی نہیں بلکہ مسلمان آج جماعت احمدیہ پر ایسے ہی اعتراض کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایسے اعتراض کرتے ہیں جو اگر انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو دوسرے انبیاء پر بھی پڑتے ہیں۔تو بہر حال تبلیغ میں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ ایسی بات نہ ہو جو انصاف سے عاری ہو۔پھر تبلیغ کے لئے یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ مذہب کی خوبصورتی تحتمل اور برداشت سے پیش کی جائے۔ہم نے مسلمانوں کو بھی تبلیغ کرنی ہے اور غیر مسلموں کو بھی۔اب یورپ کے ملکوں میں لاکھوں کی تعداد میں مسلمان مختلف ملکوں سے آ کر آباد ہوئے ہوئے ہیں۔مختلف فرقوں کے یہ لوگ ہیں۔ایسے بھی ہیں جو ایک دوسرے کے خلاف شدت پسند جذبات رکھتے ہیں بلکہ انہیں کافر تک کہتے ہیں۔کفر کے فتوے ایک دوسرے کے خلاف دیئے جاتے ہیں۔اور ان کفر کے فتوؤں کی وجوہات کیا ہیں؟ اس بات میں اس وقت میں نہیں جاتا۔تو بہر حال یہ لوگ صرف ہمیں احمدیوں کو ہی کا فرنہیں کہتے آپس میں بھی ان کی سر پھٹول ہوتی رہتی ہے۔کل ہی یہاں عربوں کے ساتھ جب ملاقات تھی۔چار پانچ سو تھے۔ان میں سے کچھ غیر از جماعت بھی تھے۔بلکہ بہت اکثریت غیر از جماعت کی تھی۔میرا خیال ہے نصف تو ضرور ہوں گے۔تو ان میں سے ایک نے کہا کہ فلاں فرقہ صحابہ کو کافر کہتا ہے، آپ کیا کہتے ہیں۔6