دعوۃ الی اللہ کی اہمیت اور ضرورت — Page 23
پس دنیا کی اصلاح کا اگر بیڑا ہم نے اٹھایا ہے، اگر دنیا کو اسلام کی حقیقی تعلیم سے ہم نے آگاہ کرنا ہے تو پھر ہمیں اپنی حالتوں کے جائزے لیتے رہنے کی ضرورت ہے۔دعوت الی اللہ کے لئے چند لوگوں کے اپنے آپ کو پیش کرنے سے ہم دنیا میں اسلام کا پیغام نہیں پہنچا سکتے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک دفعہ جماعت کو فرمایا تھا کہ ہر احمدی کو اس کام کے لئے اپنے آپ کو پیش کرنا چاہئے اور دعوت الی اللہ میں اپنا نام لکھوانا چاہئے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 12 صفحہ 325-324) اور جب ایسی حالت ہوگی تبھی ہر احمدی کو اپنی حالتوں کے سدھارنے کی طرف بھی توجہ ہوگی ،تبھی دنیا میں اسلام کا حقیقی پیغام بھی پہنچے گا۔اللہ تعالیٰ تو اپنی فعلی شہادت سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تائید و نصرت فرما رہا ہے اور بہت سے لوگوں کے سینے کھل رہے ہیں لیکن ہمیں اپنے فرائض کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ نے آجکل ہمیں تبلیغ کی بہت سی سہولتیں مہیا فرما دی ہیں جن کا پہلے بھی میں ذکر کر چکا ہوں۔ان سے ہر احمدی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔صرف اپنی ترجیحات بدلنے کی ضرورت ہے تا کہ دنیا کو صحیح راستے کی طرف رہنمائی کر کے ہم میں سے ہر ایک اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والا بن سکے۔دنیا کو تباہی کے گڑھے میں گرنے سے بچانے والا بن سکے۔پس آج دنیا کو تباہی کے گڑھے میں گرنے سے بچانے کی ذمہ داری مسیح محمدی کے غلاموں کی ہے۔دنیا کی بقا آج ہمارے ہاتھ میں ہے۔اللہ تعالیٰ نے آج ہمیں دنیا کی روحانی پیاس بجھانے کے لئے مقرر کیا ہے۔پس اس ذمہ داری کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔اس 23 23