دعوۃ الی اللہ کی اہمیت اور ضرورت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 24 of 25

دعوۃ الی اللہ کی اہمیت اور ضرورت — Page 24

کام کے لئے صرف تھوڑے سے لٹریچر یا چند سیمینار یا چند میٹنگز کام نہیں کریں گی بلکہ ہمارے ہر طبقے کو اپنے اپنے حلقے میں اس کام کو سر انجام دینے کے لئے آگے آنا ہو گا۔مستقل مزاجی سے اس کام میں حجت جانا ہو گا۔اپنے عملوں کو اسلام کی حقیقی تعلیم کے مطابق ڈھالنا ہوگا اور خدا تعالیٰ کے آگے جھکتے ہوئے عبادت کے حق ادا کرنے ہوں گے۔پس ہم میں سے ہر ایک کو یہ عہد کر کے یہاں سے جانا چاہئے کہ ہم دنیا کی روحانی پیاس بجھانے کے سامان کریں گے انشاء اللہ۔دنیا کو تباہی کے گڑھے سے نکالنے کی کوشش کریں گے۔اپنے عملوں کو اس تعلیم کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے رہیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دی ہے۔انشاء اللہ۔انشاء اللہ۔(باقی پہ تو آپ انشاء اللہ کہتے رہے ہیں اور عملوں پہ آپ خاموش ہو گئے ہیں ) اور کسی کو اپنے پر اس بات پر انگلی نہیں اٹھانے دیں گے کہ تمہارے قول و فعل میں تضاد ہے۔حقوق اللہ کی ادائیگی کی بھی مثالیں قائم کریں گے اور حقوق العباد کی ادائیگی کی بھی مثالیں قائم کریں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ جلسے کے بعد آپ سب کو خیریت سے اپنے اپنے گھروں میں واپس لے جائے۔اب دعا کر لیں۔(دعا) 24