دعوۃ الی اللہ کی اہمیت اور ضرورت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 22 of 25

دعوۃ الی اللہ کی اہمیت اور ضرورت — Page 22

کو ظاہر کرنے کے لئے سب سے اول تو وہ پہلو ہے کہ تم سچے مسلمانوں کا نمونہ بن کر دکھاؤ اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس کی خوبیوں اور کمالات کو دنیا میں پھیلا ؤ۔( ملفوظات جلد 8 صفحہ 323۔ایڈیشن 1985 ء مطبوعہ انگلستان) پھر ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مدینے کی کیا حالت ہوگئی۔ہر ایک حالت میں تبدیلی ہے۔یعنی وہیں جو صحابہ تھے ان میں ایک عجیب افراتفری پیدا ہو گئی تھی اور اس کے کچھ عرصے کے بعد پھر منافقوں نے بھی زور لگانا شروع کر دیا۔پس اس تبدیلی کو مدنظر رکھو۔یہ مدینہ ہی تھا جہاں ایک زمانے میں صحابہ پھرتے تھے اور جب حضرت عثمان کی شہادت کا واقعہ ہو ا تو وہاں منافقین کا زور ہو گیا اور صحابہ گھروں میں بند ہو گئے۔آپ نے فرمایا کہ پس اس تبدیلی کو مدنظر رکھو کہ یہ واقعہ وہاں بھی ہو گیا تھا اور آخری وقت کو ہمیشہ یادرکھو۔اصل چیز انجام ہے۔آنے والی نسلیں آپ لوگوں کا منہ دیکھیں گی اور اس نمونے کو دیکھیں گی۔اگر تم پورے طور پر اپنے آپ کو تعلیم کا حامل نہ بناؤ گے تو گویا آنے والی نسلوں کو تباہ کرو گے۔انسان کی فطرت میں نمونہ پرستی ہے۔وہ نمونے سے بہت جلد سبق لیتا ہے۔ایک شرابی کہے کہ شراب نہ پیو۔ایک زانی اگر کہے کہ زنانہ کرو۔ایک چور دوسرے کو کہے کہ چوری نہ کرو تو ان نصیحتوں سے دوسرے کیا فائدہ اٹھائیں گے۔فرمایا جو لوگ خود ایک بدی میں مبتلا ہو کر اس کا وعظ کرتے ہیں وہ دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔دوسروں کو نصیحت کرنے والے اور خود عمل نہ کرنے والے بے ایمان ہوتے ہیں اور اپنے واقعات کو چھوڑ جاتے ہیں۔ایسے واعظوں سے دنیا کو بہت نقصان پہنچتا ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 6 صفحہ 264۔ایڈیشن 1985 ء مطبوعہ انگلستان) 22 22