دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 90 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 90

90 قادیان وغیرہ تھے۔لوائے احمدیت کے بلند ہوتے ہی فضا نعروں سے گونج اٹھی۔حضور اقدس نے لوائے احمدیت لہرانے کے بعد ہاتھ اٹھائے اور اجتماعی دعا کرائی دعا کے بعد آپ جلسہ کے سٹیج پر تشریف لائے اور حضرت مولوی محمد حسین صاحب صحابی سے مصافحہ فرمایا اور پھر کرسی صدارت پر رونق افروز ہوئے۔جلسہ کی کاروائی کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو قاری محمد عاشق صاحب آف ربوہ نے کی اور آپ ہی نے آیات کا اردو تر جمہ پڑھ کر سنایا۔اس کے بعد مکرم ناصر علی عثمان صاحب آف قادیان ابن مکرم مولوی محمد عمر علی صاحب در ولیش قادیان نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے پر شوکت پاکیزہ کلام میں سے حسب ذیل اشعار نہایت خوش الحانی کے ساتھ سنائے۔ہے شکر رب عز وجل خارج از بیاں جس کے کلام سے ہمیں اُس کا ملا نشاں جو دور تھا خزاں کا وہ بدلا بہار سے لگی نسیم عنایات یار سے جتنے درخت زندہ تھے وہ سب ہوئے ہرے پھل اس قدر پڑا کہ وہ میووں سے لد گئے اےسونے والو جا گو کہ وقت بہار ہے اب دیکھو آ کے در پہ ہمارے وہ یار ہے کیا زندگی کا ذوق اگر دو نہیں ملا لعنت ہے ایسے جینے پہ گراس سے ہیں جدا دیکھو خدا نے ایک جہاں کو جھکا دیا گمنام پا کے شہرۂ عالم بنا دیا