دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 91 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 91

91 جو کچھ مری مراد تھی سب کچھ دکھا دیا میں اک غریب تھا مجھے بے انتہا دیا اک قطرہ اُس کے فضل نے دریا بنادیا میں خاک تھا اُسی نے ثریا بنا دیا میں تھا غریب وبے کس وگمنام وبے ہنر کوئی نہ جانتا تھا کہ ہے قادیاں کدھر لوگوں کی اس طرف کو ذرا بھی نظر نہ تھی میرے وجود کی بھی کسی کو خبر نہ تھی اب دیکھتے ہو کیسا رجوع جہاں ہوا اک مرجع خواص یہی قادیاں ہوا مکرم ناصر علی عثمان صاحب کی طرز ادا ئیگی کچھ ایسی دلگداز تھی کہ نظم روح میں اترتی چلی جاتی تھی۔اس پر طرہ یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان اشعار کے اعجازی مضامین اور ساتھ قادیان میں تقریباً نصف صدی کے بعد آپ کے خلیفہ کے ورود نے جذبات کو اس قدر متلاطم کر دیا تھا کہ ایک ایک مصرعہ پر دل بے قابو ہوئے جاتے تھے۔اسی عالم جذبات و وارفتگی میں جب ہر سمت نعرے گونجنے لگے تو حضور بھی اس کیفیت سے باہر نہ رہ سکے۔چنانچہ آپ نے فرمایا: متفرق نعروں سے آواز ادھر اُدھر پھیل جاتی ہے اگر نعرے لگانے ہیں تو پر شوکت آواز میں اور ایک آواز میں لگائیں اس کے ساتھ ہی حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے حسب ذیل نعرے خود لگوائے۔نعرہ تکبیر اللہ اکبر۔اسلام زندہ باد۔مرزا غلام احمد کی، جے۔وہ زمین کے کناروں تک شہرت پا گیا۔“ یہ نظم ختم ہوئی تو مکرم داؤد احمد ناصر صاحب آف جرمنی نے حضرت مصلح موعودؓ کی نظم ہے رضائے ذاتِ باری اب رضائے قادیاں“ کے حسب ذیل اشعار ترنم کے ساتھ ایسی پُر درد ئے میں پڑھی کہ ہجرت کے نقوش پھر سے ذہنوں میں ابھرنے لگے اور دل مسیح پاک علیہ السلام کی بستی کے فراق کی یادوں میں ڈوب گئے۔وو