دورۂ قادیان 1991ء — Page 89
89 سلوک نے ان لوگوں کے دلوں میں بیحد عقیدت ومحبت کے جذبات پیدا کر دیئے تھے۔ساڑھے سات بجے حضور انور واپس دارا اسی تشریف لے آئے۔تاریخی صد ساله جلسہ سالانہ قادیان ۱۹۹۱ مختصر رپورٹ تاریخی جلسه سالانه قادریان ۱۹ کا افتاح فرمانے کی غرض سے سیدنا حضرت خلیفہ امسیح الرابع " مورخہ ۲۶ دسمبر کو صبح دس بجکر پانچ منٹ پر اپنے خدام کے ہمراہ دار مسیح میں اپنے دفتر سے نکل کر مسجد مبارک کے نیچے سے ہوتے ہوئے پیدل مہان خانہ والی سٹرک پر آئے۔مہمان خانہ کی چھت پر انڈو نیشیا اور سنگا پور کی مستورات آپ کے دیدار کی منتظر تھیں۔جو نہی آپ اس طرف آئے وہ چھت سے سلام و دعا دینے لگیں۔اُن کے جواب میں حضور پر نور نے بھی دعا دی اور ہاتھ ہلا ہلا کر سلام کا جواب دیا وہاں سے گزرتے ہوئے آپ بہشتی مقبرہ والی سٹرک کے پل پر سے گزر کر جلسہ گاہ کی طرف جانے والی سٹرک پر آئے اور جیسے ہی آپ جلسہ گاہ میں پہنچے فضا فلک شگاف نعرہ ہائے تکبیر ، اللہ اکبر سے گونج اٹھی۔یوں تو حضور انور کی چلنے کی عمومی رفتار خاصی تیز ہوتی تھی لیکن اس روز با وجود نزلہ وزکام اور بخار کے رفتار اس قدر تیر تھی کہ جیسے زمین آپ کے قدموں تلے لپٹتی چلی جارہی تھی۔آپ کے قدموں کے ساتھ آپ کے ہمراہ چلنے والوں کے قدم بھی قدرتی طور پر کچھ اس طرح سرعت کے ساتھ اور مل کر اُٹھ رہے تھے کہ سینہ زمین سے موسیقی کی سی آواز اٹھتی تھی۔حضور انور جلسہ گاہ کے سٹیج پر تشریف لائے تو آپ نے پہلے حضرت مولوی محمد حسین صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مصافحہ فرمایا۔حضرت مولوی صاحب نے آپ کو پر فیوم کی شیشی دی جسے آپ نے کھول کر پہلے حضرت مولوی صاحب پر اور پھر اردگرد کھڑے دوستوں پر بھی چھڑ کا۔اس کے فوراً بعد ہی یعنی دس بجکر ہیں منٹ پر لوائے احمدیت لہرانے کی تقریب عمل میں آئی۔حضور انور کے ساتھ مکرم ناظر اعلیٰ صاحب صدر انجمن احمد یہ ربوہ مکرم وکیل اعلی صاحب تحریک جدیدر بوه ، مکرم ناظر اعلیٰ صاحب صدر انجمن احمد یہ قادیان اور دیگر ملکوں کے امراء نیز علاقائی وصوبائی امراء صدران مجالس خدام الاحمدیہ وانصار اللہ، ناظم صاحب وقف جدیدر بوہ وقادیان۔ناظر دعوة وتبلیغ قادیان۔وکیل اعلیٰ