دورۂ قادیان 1991ء — Page 127
127 آ رہی کہ ہم کیا کریں اور ملاں کا یہ حال ہے کہ سارے پاکستان میں جتنی چاہے گلی گلی میں بدکاریاں پھیلیں، چوریاں ہوں ، جھوٹ پھیلیں اور سچائی عنقا ہو جائے ، عدالتیں ظلم اور سفاکی سے بھر جائیں، رشوت ستانی کا دور دورہ ہو، ڈا کے پڑیں، کسی عورت کو نہ چادر نصیب ہو نہ گھر کی چار دیواری کا تحفظ ملے یہ سب کچھ ہولیکن ان کے اسلام پر جوں تک نہ رینگے، کوئی تکلیف نہ ہو۔عجیب وغریب اسلام ہے لیکن اگر احمدی کلمہ لا الہ الا الله بلند کریں اور کہیں لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ اللہ ایک ہے اور محمد اس کے رسول ہیں تو ان کے تن بدن کو آگ لگ جائے۔اگر احمدی نمازیں پڑھیں تو تکلیف سے ان کی جان ہلکان ہونے لگے کہ یہ کیا ہو رہا ہے کہ احمدی نمازیں پڑھ رہے ہیں۔احمدی سچ بولیں تو ان کو تکلیف ہو۔ہر وہ نیکی جو اسلام سکھاتا ہے اسے عملاً تو وہ احمدیوں کے سپرد کر بیٹھے ہیں اور اب وہاں بھی مٹانے کے درپے ہیں۔میں ان کو یقین دلاتا ہوں کہ تم نے اپنے ماحول سے وہ نیکیاں مٹنے دیں تم جانو۔خدا کے حضور تم جوابدہ ہو گے لیکن خدا کی قسم ! تم ایڑی چوٹی کا زور لگاؤ۔تم سارے مل کر جو کرنا ہے کر گز رو مگر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سنت کو تم احمدی دلوں سے مٹانہیں سکتے۔احمدی اعمال سے تم نوچ نہیں سکتے یہ ہماری زندگی کا حصہ ہیں۔یہ ہماری سرشت بن چکی ہیں۔پس اسلام کی اعلیٰ قدروں کے اگر ہم آج محافظ ہیں تو یہ خدا کا فیضان ہے اس نے ہمیں عطا کیا ہے۔اسی نے یہ جھنڈا ہمیں تھمایا ہے۔جو چاہو ظلم کرو۔یہ جھنڈا ہم ہمیشہ سر بلند رکھیں گے۔پس وہاں کے مسلمان علماء کی عجیب حالت ہے اور ہندوستان کے علماء کو یہ بات دکھائی نہیں دے رہی کہ ان کی زندگیوں میں یہ کیسا تضاد ہے۔بدیوں سے گلیاں بھر جائیں اور ان کے اسلام کو کوئی تکلیف نہ ہو اور ربوہ میں چھوٹے چھوٹے بچے درود پڑھتے ہوئے لوگوں کو جگائیں تو ایسی آگ بھڑک اٹھے کہ بچوں کے خلاف تھانوں میں پرچے ہو جائیں۔ان کو گھسیٹ کر قیدوں میں ڈالا جائے اور ان کے خلاف مقدمے چلائے جائیں اگر کہو! کیوں؟ کیا کیا انہوں نے ؟ ان معصوم بچوں نے کیا جرم کیا تھا ؟ تو جرم یہ کھوایا جاتا ہے کہ یہ ایسے بد بخت لوگ ہیں کہ صبح نماز کے وقت لا إلهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ پڑھتے ہوئے محمد رسول اللہ پر درود بھیجتے ہوئے ربوہ کی گلیوں میں پھر رہے