دورۂ قادیان 1991ء

by Other Authors

Page 126 of 294

دورۂ قادیان 1991ء — Page 126

126 مسلمانوں کی راہنمائی کرے اور ان کو وہ سر مہیا کرے جو آسمان سے ان کے لئے نازل ہوا ہے یعنی مہدی اور مسیح کا سر جس کے بغیر نہ ان کو زندگی کے سلیقے آئیں گے نہ ان کو دنیا میں پنپنے کے ڈھنگ آئیں گے۔جس حال میں یہ بد نصیب لیڈرشپ کی غلط راہنمائی کے نتیجہ میں بار بار دکھ اٹھا رہے ہیں اور بے شمار تکلیفوں کے دور میں سے گزر رہے ہیں یہاں تک کہ ایسی Tunnel ہے جس کے پرلی طرف کوئی روشنی دکھائی نہیں دیتی۔اس ساری صورتحال کو درست کرنے کی صلاحیت احمدیت میں ہے اور احمد بیت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔اس پہلو سے بھی ہمیں ہندوستان کی طرف غیر معمولی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔جب ہم توجہ دے رہے ہیں اور دیں گے اور اور زیادہ دیتے چلے جائیں گے تو لازما یہاں مخالفت کی بھی نئی لہریں اٹھیں گی۔اب جب میں قادیان کے جلسہ کے لئے حاضر ہورہا تھا تو معلوم ہوا کہ یہاں کے بعض بڑے بڑے علماء جنہوں نے اپنے آپ کو احمدیت کے خلاف وقف کر رکھا ہے وہ پاکستان پہنچے اور وہاں کے ان مولویوں سے جو مغلظات بکنے میں چوٹی کا مقام رکھتے ہیں مشورے کئے ،سر جوڑے، حکومت پر وہاں بھی ہر قسم کے دباؤ ڈالے گئے اور یہاں بھی ڈالے گئے کہ کسی طرح اس جلسہ کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر دو ورنہ احمدیت کو غیر معمولی ترقی نصیب ہوگی۔لیکن خدا تعالیٰ نے ان کے سب ارادوں کو نا کام کر دیا لیکن پاکستان میں اس کا رد عمل ابھی اور زیادہ چلے گا اور معلوم ہوتا ہے کہ کافی شدت کے ساتھ ظاہر ہوگا کیونکہ ان مولویوں کا دل بہت ہی چھوٹا ہے اور نیکی کو پنپتے ہوئے وہ دیکھ ہی نہیں سکتے۔یہ عجیب بیماری ہے کہ اسلام کے نمائندہ ہیں لیکن بدیوں کو پنپتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ان کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی گلی گلی میں Drug Addiction ہو رہی ہے ،عورتوں کی عزتیں ختم ہوگئیں، چھوٹے بچوں کا تحفظ جاتا رہا، اغواء کی واردات ہورہی ہیں ، ڈاکو دن دھاڑے جہاں چاہیں جس کو چاہیں لوٹیں۔ایک ایسی بدامنی کی کیفیت ہے کہ بسا اوقات یہ سوال بار بار سیاستدانوں کی طرف سے بھی اٹھایا جارہا ہے کہ کیوں نہ دوبارہ فوج کو لائیں اور وہ یہ نہیں سوچتے کہ پہلے بھی تو فوج ہی کے چھوڑے ہوئے مسائل ہیں جن سے قوم اس وقت نبرد آزما ہونے کی کوشش کر رہی ہے اور جو اُن کے لئے اس وقت زندگی اور موت کا سوال بن چکے ہیں۔پس ان کو سمجھ نہیں